کچھ بے ساختگی پر
تحریر: برزکوہی
دی بلوچستان پوسٹ
خیالات کبھی سرحدوں کے پابند نہیں رہے۔ تہذیبوں کی پوری تاریخ دراصل افکار، نظریات اور تصورات کی مسلسل ہجرت کی تاریخ ہے۔ فلسفہ یونان سے اٹھا تو بغداد میں اس کی نئی تعبیر پیدا ہوئی، بغداد سے اندلس پہنچا تو اس نے ایک اور معنوی پیکر اختیار کیا، اور پھر یورپ میں داخل ہوا تو نشاۃِ ثانیہ اور عہدِ روشن خیالی کی فکری بنیادوں میں جذب ہوگیا۔ اسی طرح قوم پرستی، اشتراکیت، لبرل ازم، سامراج مخالف تحریکیں، جدید ریاست کا تصور، عوامی حاکمیت کا اصول اور انقلابی سیاست کی متعدد اصطلاحات بھی اپنی جائے پیدائش سے نکل کر دنیا کے مختلف معاشروں تک پہنچیں۔ اس میں کوئی غیر معمولی امر نہیں، کیونکہ علم اپنی فطرت میں آفاقی ہے اور انسان ہمیشہ دوسروں کے تجربات سے سیکھتا آیا ہے۔ غیر معمولی امر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی تصور اپنے تاریخی معروض سے جدا ہو کر ایسی مطلق صداقت کا روپ دھار لیتا ہے جسے ہر سماج، ہر زمانے اور ہر قومی تجربے پر یکساں طور پر منطبق سمجھ لیا جائے۔ جب یہ صورتحال پیدا ہوجائے توعلم کی حرکت آہستہ آہستہ عقیدے کی سکونیت میں بدلنے لگتی ہے، اور اصطلاح، جو کبھی حقیقت کو سمجھنے کا وسیلہ تھی، رفتہ رفتہ حقیقت پر حکم چلانے کا آلہ بن جاتا ہے۔
سیاسی اصطلاحات محض لغوی اکائیاں نہیں ہوتیں کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہو جائیں اور ان کا مفہوم جوں کا توں برقرار رہے۔ ہر اصطلاح اپنے اندر ایک پورا تاریخی شعور، ایک مخصوص تمدنی تجربہ، ایک معین معاشی ساخت اور ایک خاص سیاسی کشمکش کو سموئے ہوتی ہے۔ اس کی ولادت کسی تاریخ نویس کے قلم سے نہیں بلکہ تاریخ کی کوکھ سے ہوتی ہے۔ اسی لیئے ہر سیاسی اصطلاح کا ایک نسب نامہ ہوتا ہے، ایک تاریخی محلِ پیدائش ہوتا ہے، ایک معروض ہوتا ہے، اور ایک ایسا فکری نظام ہوتا ہے جس کے بغیر اس کا حقیقی مفہوم ادھورا رہ جاتا ہے۔
بیسویں صدی نے اس حقیقت کو ایک نئے پیمانے پر آشکار کیا۔ پہلی جنگِ عظیم نے صرف سلطنتوں کے جغرافیئے کو نہیں بدلا بلکہ سیاسی فکر کی ہیئت بھی بدل دی۔ اس کے بعد دنیا میں ایسے نظریاتی دھارے ابھرے جنہوں نے انسانی سماج کو سمجھنے کیلئے اپنے اپنے جامع بیانیئے تشکیل دیئے۔ بعد ازاں سرد جنگ نے ان بیانیوں کو عالمی کشمکش میں تبدیل کردیا۔ اس عہد میں توپ اور ٹینک جتنے اہم تھے، اتنی ہی اہم کتاب، رسالہ، جامعہ، مترجم، نظریاتی کارکن اور سیاسی مدرسہ بھی تھے۔ طاقت صرف عسکری اتحادوں کے ذریعے اپنا نفوذ قائم نہیں کر رہی تھی، بلکہ مفاہیم، اصطلاحات اور فکری سانچوں کے ذریعے بھی ذہنوں کی تشکیل کر رہی تھی۔ گویا یہ صرف جغرافیہ کی جنگ نہ تھی، بلکہ ادراک کی جنگ بھی تھی، جہاں ہر قوت یہ چاہتی تھی کہ دنیا خود کو اسی کی زبان میں سمجھے، اپنی مصیبت کو اسی کی اصطلاح میں بیان کرے، اور اپنی نجات کو بھی اسی کے نظریاتی افق میں تلاش کرے۔
اسی تناظر میں مارکسی لٹریچر نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے متعدد معاشروں تک وسیع رسائی حاصل کی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس لٹریچر نے نوآبادیاتی نظام، سرمایہ دارانہ استحصال، طبقاتی غلبے، ریاستی جبر اور عالمی طاقت کے ڈھانچوں کو سمجھنے کیلئے نہایت گہرے علمی وسائل فراہم کیئے۔ بہت سی محکوم اقوام نے انہی مباحث سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت کو وسعت دی، اپنی جدوجہد کو تاریخی معنویت دی، اور سامراجی اقتدار کے مخفی ڈھانچوں کو پہچاننے کی استعداد حاصل کی۔ مسئلہ استفادے میں نہیں تھا، کیونکہ کوئی بھی زندہ قومی تحریک فکری تنہائی میں نشوونما نہیں پاتی۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں بعض مقامات پر نظریاتی اصطلاحات کو ان کے تاریخی اور معروضی محل سے کاٹ کر آفاقی سانچوں کے طور پر اختیار کرلیا گیا۔ یوں وہ تصورات جو مخصوص یورپی سماجی ارتقاء، صنعتی طبقاتی کشمکش اور ایک خاص ریاستی ساخت کی تشریح کیلئے وضع ہوئے تھے، بتدریج ایسے معاشروں کی تعبیر کا ذریعہ بننے لگے جن کی تاریخی ساخت، قومی مسئلہ، معاشرتی تنظیم، ریاستی تجربہ، جغرافیائی حقیقت اور سیاسی ارتقاء بنیادی طور پر مختلف تھے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے، اور شاید اسی سوال سے اس پوری بحث کا آغاز ہونا چاہیئے۔ کیا ہر سیاسی اصطلاح سرحد عبور کرتے وقت اپنا مفہوم بھی ساتھ لے جاتی ہے، یا صرف اپنا لفظ؟ کیا ایک تصور، جو کسی مخصوص تاریخی کشمکش کی پیداوار تھا، نئی سرزمین میں بھی بغیر کسی تنقیدی بازفہم کے ویسی ہی معنویت رکھتا ہے؟ یا ہر نئے معروض میں اس کی ازسرِنو جانچ ناگزیر ہوتی ہے؟ یہ سوال محض لسانیات کا نہیں، بلکہ علمیات کا سوال ہے۔ کیونکہ اگر مفاہیم کو ان کے تاریخی معروض سے آزاد مان لیا جائے تو پھر دنیا کے تمام معاشروں کو چند آفاقی اصطلاحات کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر تاریخ کو علم کی بنیاد تسلیم کیا جائے تو ہر اصطلاح کو پہلے اپنے اصل معروض اور پھر نئے معروض، دونوں کی کسوٹی پر پرکھنا لازم ہوجاتا ہے۔ تحقیق پہلے واقعے کو دیکھتی ہے، پھر اس کی تعبیر کیلئے مناسب مفہوم تلاش کرتی ہے۔ تقلید پہلے مفہوم منتخب کرتی ہے، پھر واقعے کو اسی مفہوم کے اندر قید کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پہلی صورت میں اصطلاح حقیقت کا خادم ہوتا ہے، دوسری صورت میں حقیقت اصطلاح کے تابع بن جاتا ہے۔
بے ساختگی بھی ایسی ہی اصطلاح ہے جسے اس کے تاریخی پس منظر سے الگ کرکے سمجھنا ممکن نہیں۔ مارکسی اور انقلابی روایت میں یہ محض روزمرہ زبان کا لفظ نہیں تھا، بلکہ ایک طویل فکری کشمکش کا حصہ تھا۔ اس کے پیچھے انیسویں صدی کے یورپ کی وہ پوری تاریخ موجود تھی جس میں صنعتی سرمایہ داری، مزدور طبقے کی تشکیل، ٹریڈ یونینوں کا ابھار، سوشلسٹ جماعتوں کی تنظیم، پارلیمانی سیاست، خفیہ انقلابی حلقے، عوامی بغاوتیں، شکست خوردہ کمیونیں اور ریاستی جبر سب ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ پیرس کمیون کی شکست نے یورپی انقلابی فکر کو یہ سوال دیا کہ عوامی غصہ اگر اپنی تنظیمی صورت نہ بناسکے تو کیا ریاستی مشین اسے کچل نہیں دیتی؟ روس کے “نارودنکوں” نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا چند جرات مند افراد کے ارادے سے تاریخ کا پہیہ موڑا جاسکتا ہے؟ “بلانکیزم” نے ہر اول دستے کی جرات کو مرکز بنایا، مگر مارکسی روایت نے پوچھا کہ اگر طبقاتی قوتیں، سیاسی تنظیم، عوامی شعور اور تاریخی مرحلہ اس کے ساتھ نہ ہوں تو صرف جرات کتنی دیر تاریخ کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟ یہی وہ پس منظر تھا جہاں “بے ساختگی”، “مہم جوئی”، “رضاکاریت”، “معروضیت”، “تنظیم”، “طبقاتی شعور” اور “تاریخی ضرورت” جیسی اصطلاحات ایک ہی فکری میدان کے اندر پیدا ہوئیں۔
لینن کی تحریروں میں “بے ساختگی” کا سوال خاص طور پر روسی سوشل ڈیموکریٹک تحریک کے اندر ابھرا۔ وہاں بحث یہ تھی کہ کیا مزدور طبقے کی روزمرہ معاشی جدوجہد خود بخود انقلابی سیاسی شعور تک پہنچ سکتی ہے، یا اسے ایک منظم نظریاتی اور سیاسی تنظیم کی ضرورت ہے؟ لینن جب “بے ساختہ شعور” پر تنقید کرتا ہے تو اس کا مقصود ہر عوامی حرکت کو حقیر ثابت کرنا نہیں تھا۔ وہ دراصل اس بات پر زور دے رہا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مزدور کا فوری تجربہ اسے معاشی مطالبات تک لے جاسکتا ہے، مگر ریاست، اقتدار، طبقاتی حاکمیت اور انقلاب کے سوال تک پہنچنے کیلئے ایک بلند سیاسی شعور درکار ہے۔ اس لیئے لینن کے ہاں “بے ساختگی” کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غیر متوقع عمل غلط ہے، یا ہر شدید عمل مہم جوئی ہے، یا ہر وہ حرکت جو پرانے سانچے سے باہر ہو، تاریخی طور پر ناروا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر عوامی حرکت کو نظریاتی بصیرت، تنظیمی سمت اور تاریخی مرحلے کی درست تفہیم سے نہ جوڑا جائے تو وہ حکمران نظام کے اندر جذب بھی ہوسکتی ہے، بکھر بھی سکتی ہے، اور اپنے ہی امکانات کو ضائع بھی کرسکتی ہے۔
روزا لکسمبرگ نے اسی بحث کو ایک اور زاویئے سے دیکھا۔ اس کے نزدیک عوامی تحریکیں صرف اوپر سے صادر کردہ تنظیمی حکم سے پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ تاریخ کے اندر ایسے لمحات آتے ہیں جب عوامی توانائی خود اپنی صورت پیدا کرتی ہے، اور تنظیم کا کام اسے قتل کرنا نہیں بلکہ اس کی تاریخی حرکت کو سمجھنا ہوتا ہے۔ روسی انقلاب میں ہڑتالیں، عوامی مظاہرے، سوویتوں کی تشکیل اور اچانک پھوٹنے والی سیاسی قوت نے یہ دکھایا کہ تاریخ کا معروض کبھی صرف کتابی نقشے کے مطابق نہیں چلتا۔ عوامی عمل کبھی کبھی نظریئے سے آگے نکل کر نظریئے کو خود اپنے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکسی روایت کے اندر “بے ساختگی” پر بحث کبھی یک رخا نہیں رہا۔ ایک طرف یہ تنبیہ تھی کہ محض ارادہ تاریخ کا بدل نہیں ہوسکتا، دوسری طرف یہ ادراک بھی تھا کہ تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب عمل خود نئے امکانات کھولتا ہے، جب پرانا معروض اپنے اندر سے نئی شدت پیدا کرتا ہے، اور جب وہ چیز جو کل قبل از وقت دکھائی دیتی تھی، آج تاریخ کی ضرورت بن جاتی ہے۔
اسی لیئے “بے ساختگی” کو سمجھنے کیلئے تین باتوں میں فرق کرنا لازم ہے۔ پہلی بات عوامی یا سیاسی حرکت کا غیر متوقع ہونا ہے۔ دوسری بات اس حرکت کا تاریخی معروض سے منقطع ہونا ہے۔ تیسری بات اس پر بعد از وقوع ایسا حکم صادر کرنا ہے جو خود اپنے ثبوت سے محروم ہو۔ کوئی عمل غیر متوقع ہوسکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر تاریخی ہے۔ کوئی اقدام پرانے سیاسی معمولات سے شدید ہوسکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ معروض سے باہر ہے۔ کوئی فیصلہ خطرناک ہوسکتا ہے، مگر خطرہ بذاتِ خود بے ساختگی کا ثبوت نہیں۔ تاریخ میں خطرے اور ضرورت کا رشتہ ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے۔ بعض اوقات خطرہ اس لیئے مول لیا جاتا ہے کہ تمام محفوظ راستے بند ہوچکے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات شدت اس لیئے پیدا ہوتی ہے کہ سست روی خود ایک بڑی سیاسی موت میں تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات معروض ایسا ہوتا ہے کہ جو قوت اپنی شدت پیدا نہیں کرتی، وہ اپنی موجودگی بھی برقرار نہیں رکھ سکتی۔
یہی نکتہ بلوچ قومی سیاست کے باب میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ یہاں کسی اصطلاح کو رد کرنا مقصود نہیں، بلکہ اس کے استعمال کا معیار دریافت کرنا مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں حکمتِ عملی یا جنگی کارروائی “بے ساختگی” ہے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے بلوچ قومی معروض کی ہمہ گیر تحلیل پیش کرے۔ اسے واضح کرنا ہوگا کہ اس معروض کی تشکیل کن عوامل سے ہوتی ہے۔ کیا قومی آزادی کی تحریک کا معروض وہی ہے جو صنعتی یورپ کی طبقاتی سیاست کا تھا؟ کیا ایک نوآبادیاتی یا نیم نوآبادیاتی تناظر میں مزاحمت کی منطق وہی رہتی ہے جو ایک منظم مزدور تحریک کی پارلیمانی یا صنعتی جدوجہد کی منطق تھی؟ کیا ریاست، سماج، جغرافیہ، قومی شعور، قبائلی و شہری ساخت، جبری گمشدگیوں کا نظام، وسائل پر قبضہ، عسکری محاصرہ، جلاوطنی، شہادت، خوف، یادداشت اور مزاحمت کی ہیئت دونوں جگہ یکساں ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ایک تاریخی سیاق میں وضع ہونے والی اصطلاح دوسرے تاریخی سیاق میں کن نظریاتی دلائل کی بنیاد پر منتقل کی جارہی ہے۔
بلوچ قومی معروض میں شدتِ عمل کو صرف جذباتی ابال یا تنظیمی بے صبری کہہ کر رد کردینا خود ایک کمزور استدلال ہے، کیونکہ محکوم اقوام کی تاریخ میں بعض اوقات شدت کوئی خارجی اضافہ نہیں ہوتی، بلکہ معروض کے اندر سے پیدا ہونے والی ضرورت ہوتی ہے۔ جب قابض ریاست سیاسی اظہار کے راستے بند کرے، جب پرامن احتجاج کو مجرمانہ بنائے، جب قومی سوال کو انتظامی مسئلہ کہہ کر ٹالے، جب اجتماعی یادداشت کو خوف کے ذریعے مٹانے کی کوشش کرے، جب زمین، ساحل، وسائل، زبان اور شناخت سب پر قبضے کا احساس گہرا ہوجائے، تو ایسی صورت میں تحریک کے اندر شدت کا پیدا ہونا محض نفسیاتی ردعمل نہیں رہتا، بلکہ تاریخی دباؤ کا اظہار بن جاتا ہے۔ اس دباؤ کو سمجھے بغیر ہر تیز عمل کو “بے ساختگی” کہنا دراصل معروض کو پڑھنے سے انکار ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی طبیب بخار کو بیماری کا نام دے دے مگر اس کے سبب کو دیکھنے سے گریز کرے۔ بخار کبھی کبھی جسم کی خرابی نہیں، جسم کی مزاحمت بھی ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم فرق کو واضح کرنا لازم ہے۔ شدت اور بے ساختگی ایک ہی شے نہیں۔ شدت کسی تحریک کے تاریخی مرحلے، ریاستی جبر، عوامی شعور، تنظیمی پختگی، علاقائی پھیلاؤ، سیاسی پیغام اور نفسیاتی ضرورت کے تحت پیدا ہوسکتی ہے۔ بے ساختگی اس وقت کہلائے گی جب عمل اپنے معروض سے کٹا ہوا ہو، اپنے نتائج کی سیاسی معنویت سے ناآشنا ہو، اپنی قوتوں کی حد سے بے خبر ہو، اور اپنے مقصد کو واضح سیاسی افق میں تبدیل نہ کرسکے۔ لیکن اگر کوئی تحریک طویل تجربے، مسلسل جبر، عوامی حافظے، تنظیمی ارتقاء اور تاریخی بندشوں کے بعد اپنی شدت میں اضافہ کرتی ہے تو اسے صرف اس وجہ سے بے ساختگی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دیکھنے والے کے مزاج سے زیادہ تیز ہے۔ بعض اوقات مسئلہ عمل کی بے ساختگی نہیں ہوتا، ناقد کی تاریخی سستی ہوتی ہے۔
یہ نکتہ تاریخ کے متعدد واقعات سے سمجھا جاسکتا ہے۔ الجزائر کی آزادی کی تحریک جب اپنے عسکری مرحلے میں داخل ہوئی تو فرانسیسی نوآبادیاتی ذہن نے اسے “دہشت”، “جنون”، “انتشار” اور “غیر ذمہ دارانہ تشدد” کے نام دیئے، اور مقامی روایتی دانش نے وہ اصلاحات مستعار لے لیئے۔ مگر بعد میں اسی تاریخ نے دکھایا کہ فرانسیسی استعمار کے اندر اصلاح، درخواست، پارلیمانی وعدے اور قانونی راستے ایک حد کے بعد سیاسی فریب سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ ویت نام میں جب ایک کمزور قوم نے دنیا کی عظیم طاقتوں کے سامنے طویل مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو بہت سے مبصرین کیلئے یہ ناممکن، غیر عقلی اور معروض سے باہر دکھائی دیتا تھا۔ لیکن تاریخ کے طویل دورانیئے نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی معروض کا حقیقی پیمانہ فوری طاقت کا توازن نہیں، بلکہ سیاسی ارادے، عوامی استقامت، جغرافیائی شعور، تنظیمی پھیلاؤ اور دشمن کی اخلاقی و سیاسی تھکن کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں بھی ایک مرحلے پر محض اخلاقی اپیل کافی نہ رہی، کیونکہ نسل پرست ریاست نے خود یہ ثابت کردیا تھا کہ وہ صرف درخواست سے اپنے اقتداری ڈھانچے کو نہیں چھوڑے گی۔
بلوچ قومی تحریک کے اندر بھی یہی مسئلہ کئی بار سامنے آیا۔ جب کسی تاریخی مرحلے میں چھوٹی کارروائیاں، محدود مزاحمتی اظہار، ابتدائی تنظیمی تجربے یا غیر مانوس سیاسی طریقے سامنے آئے تو اس وقت کے بعض دانشوران اور سیاسی حلقوں نے انہیں بھی بے وقت، بے نتیجہ، جذباتی یا بے ساختہ کہا۔ ان کے نزدیک معروض تیار نہ تھا، عوام ساتھ نہ تھے، ریاست بہت طاقتور تھی، دنیا خاموش تھی، تنظیم کمزور تھی، اور قومی شعور منتشر تھا۔ یہ سب اعتراضات اپنی جگہ غور طلب ہوسکتے تھے، مگر تاریخ کا سوال یہ ہے کہ کیا ان اعتراضات نے واقعی معروض کو مکمل طور پر پڑھا تھا، یا صرف موجودہ کمزوریوں کو مستقبل کی ناممکنات سمجھ لیا تھا؟ دو دہائیاں گزرنے کے بعد وہی ابتدائی عمل، جسے کبھی بے ساختگی کہا گیا تھا، بعض لوگوں کی زبان میں تاریخ کی ضرورت، قومی شعور کا آغاز، مزاحمتی تسلسل کی بنیاد، اور سیاسی بیداری کا سنگِ اول بن جاتا ہے۔
یہاں ناقد کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ اگر ماضی میں چھوٹی کارروائیوں کو بے ساختگی کہا گیا اور بعد میں انہیں تاریخی ضرورت مان لیا گیا، تو آج بڑی یا شدید کارروائیوں کے بارے میں بھی وہی احتیاط لازم ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ اقدامات واقعی معروض سے باہر ہوں، ان پر تنقید ہونی چاہیئے۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں پرانی شدت ناکافی ہے، پرانی زبان کمزور پڑچکی ہے، پرانے طریقے ریاستی جبر کے سامنے بے اثر ہوچکے ہیں، اور تاریخ خود اپنی نئی رفتار طلب کررہی ہے۔ ایسے میں جو لوگ ہر بڑھتی ہوئی شدت کو بے ساختگی کہتے ہیں، وہ شاید عمل کی نہیں، اپنی فکری آمادگی کی کمی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ شاید اس تاریخی دور میں تحریک کی شدت پیدا کرنے کی ضروریات پوری نہیں کر پارہے، اس لیئے ہر شدت کو مہم جوئی، ہر تیزی کو بے صبری، ہر نئے مرحلے کو بے ساختگی اور ہر غیر مانوس اقدام کو انحراف قرار دے کر اپنے فرار کو نظریاتی نام دیتے ہیں۔
سیاست میں یہ مسئلہ نیا نہیں۔ ہر تحریک کے اندر ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب عمل اور تعبیر کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ عمل آگے بڑھ چکا ہوتا ہے، مگر لغت پیچھے رہ جاتی ہے۔ تاریخ نیا سوال پوچھ رہی ہوتی ہے، مگر پرانی فکر پرانے جواب دہرا رہی ہوتی ہے۔ روسی انقلاب بہت سے منظم نظریاتی حلقوں کیلئے حیران کن تھا، مگر اس نے روسی سیاست کو نئی زبان دی۔ 1916 کا آئرش ایسٹر رائزنگ اپنی فوری صورت میں ناکام دکھائی دیا، مگر اس نے آئرش قومی تخیل کو بدل دیا۔ الجزائر میں ابتدائی مزاحمت کو فرانسیسی طاقت کے مقابلے میں ناقابلِ عمل سمجھا گیا، مگر وہی عمل نوآبادیاتی اقتدار کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے لگا۔ اس لیئے جو ناقد صرف فوری نتیجے کو معروض سمجھتا ہے، وہ تاریخ کے طویل دورانیئے کو پڑھنے سے محروم رہتا ہے۔
یہاں یہ بھی سمجھنا چاہیئے کہ تاریخی ضرورت ہمیشہ پہلے دن اپنی سند لے کر نہیں آتی۔ وہ اکثر ابتدا میں بے وقت، غیر مناسب، حد سے بڑھی ہوئی، قبل از وقت یا ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ تاریخ کا یہی المیہ اور یہی حسن ہے کہ وہ اپنی ضرورت کو کبھی کبھی اسی چیز کے ذریعے ظاہر کرتی ہے جسے اپنے وقت کے محتاط لوگ غلطی کہتے ہیں۔ جب پرانے طریقے اپنی حد کو پہنچ جائیں، جب ریاست جبر کی نئی سطح پر اتر آئے، جب عوامی شعور نئی نفسیاتی کیفیت میں داخل ہو، جب نوجوان نسل پرانی زبان سے مطمئن نہ رہے، جب قربانیوں کا تجربہ سیاسی صورت مانگے، تو تحریک کے اندر تیزی پیدا ہونا تعجب کی بات نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہوگی کہ تاریخ بدل جائے اور تحریک کی رفتار نہ بدلے، جبر شدید ہو اور مزاحمت کی زبان وہی رہے، ریاست اپنے آلات بدل دے اور تحریک اپنی پرانی صورت کو ہی ابدی حکمت سمجھتی رہے۔
اسی لیئے شدتِ عمل کو زیادہ سنجیدہ طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شدت کا مطلب صرف مقدار میں اضافہ نہیں، بلکہ تاریخی پیغام کی نوعیت میں تبدیلی بھی ہوتا ہے۔ کبھی تحریک کو اپنی موجودگی ثابت کرنی ہوتی ہے، کبھی اپنی پائیداری، کبھی اپنی سیاسی وسعت، کبھی اپنی نفسیاتی قوت، اور کبھی یہ کہ وہ تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اس لیئے کسی بھی تیز کارروائی یا شدید سیاسی اظہار کو سمجھنے کیلئے یہ پوچھنا چاہیئے کہ اس کا مقصد کیا ہے، اس کا تاریخی مرحلہ کیا ہے، اس کی سیاسی زبان کیا ہے، اس کا اثر کس سطح پر مرتب ہوتا ہے، اور یہ کس بند راستے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ اگر یہ سوالات کئے بغیر اسے “بے ساختگی” کہا جائے تو یہ تنقید نہیں، تن آسانی ہے۔
میدان میں عمل ہمیشہ خطرے سے وابستہ ہوتا ہے، جبکہ تبصرہ نسبتاً محفوظ مقام ہے۔ جو شخص عمل میں اترتا ہے، وہ کامیابی اور ناکامی دونوں کے امکان کو قبول کرتا ہے۔ جو شخص صرف تبصرہ کرتا ہے، اس کیلئے ہمیشہ یہ سہولت رہتی ہے کہ واقعے کے بعد اسے اپنے نظریاتی سانچے کے مطابق معنی دے دے۔ اگر عمل کامیاب ہو تو وہ اسے تاریخی ضرورت کہہ سکتا ہے، اگر ناکام ہو تو بے ساختگی۔
ہمیں شاید اب اس بحث کو اصطلاح کے دائرے سے نکال کر وقت کے دائرے میں رکھنا چاہیئے۔ ہر تحریک کا ایک ظاہری زمانہ ہوتا ہے، جسے لوگ واقعات کی تقویم سے ناپتے ہیں اور ایک باطنی زمانہ، جو زخموں، ناکامیوں، قربانیوں، بند راستوں، بدلتی نسلوں اور جمع ہوتی ہوئی قومی بے قراری سے بنتا ہے۔ جو لوگ صرف ظاہری زمانہ دیکھتے ہیں، انہیں ہر شدت اچانک دکھائی دیتی ہے، مگر جو باطنی زمانہ پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کوئی عمل ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ برسوں کی خاموشی، دفن شدہ غصے، ناکام راستوں، ٹوٹی ہوئی امیدوں اور مسلسل جبر کے اندر پک کر سامنے آتا ہے۔ اس لیئے کسی کارروائی کو “بے ساختگی” کہنے سے پہلے یہ دیکھنا لازم ہے کہ وہ واقعی تاریخ سے باہر پیدا ہوئی ہے، یا ہم اس باطنی زمانے کو پڑھنے سے قاصر رہے ہیں جس نے اسے پیدا کیا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































