اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے جمعرات کو ایک جہاز پر حملے کی اطلاع کے بعد آبنائے ہرمز سے جہازوں کو بحفاظت گزارنے کا آپریشن روک دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے سینکڑوں جہازوں اور ہزاروں ملاحوں کو نکالنے میں مدد کر رہی تھی، جو فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد کئی ماہ سے پھنسے ہوئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے نے ایران جنگ ختم کرنے کے ابتدائی معاہدے پر دوبارہ خدشات کو جنم دیا ہے۔
برطانوی بحریہ کی ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق کارگو جہاز کے عملے نے کہا کہ اسے عمان کے قریب ایک میزائل نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ چند گھنٹے بعد پیش آیا جب تہران نے خبردار کیا تھا کہ وہ جہاز جو اس کے منظور شدہ راستوں پر نہیں چلیں گے، محفوظ راستہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
دو امریکی حکام نے کہا کہ ایران نے جہاز پر فائرنگ کی، جبکہ ایران کی خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی، جو تہران نے جہازوں کے گزرنے کی درخواستوں کو منظم کرنے کے لیے قائم کی ہے، نے کہا کہ غیر منظور شدہ راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی اتھارٹی نے کہا کہ ’غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کے نتائج کی ذمہ داری جہاز کے مالک، آپریٹر اور کمانڈر پر ہوگی۔‘
چار ذرائع نے جہاز کی شناخت سنگاپور کے جھنڈے والے ’ایور لولی‘ کے طور پر کی۔ ایک سکیورٹی ذریعے نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ اسے ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے عارضی طور پر اپنے منصوبے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دوبارہ تصدیق کی جا سکے کہ ہمارے انخلا کی فہرست میں شامل جہازوں اور خطے کے تمام جہازوں کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں موجود ہیں۔‘
آئی ایم او نے کہا کہ جس جہاز پر حملے کا شبہ ہے وہ اس کے انخلا پروگرام کا حصہ نہیں تھا۔ یہ منصوبہ منگل کو شروع کیا گیا تھا اور یہ رضاکارانہ تھا، جس کے تحت جہاز اور ان کے عملے کو خلیج سے نکلنے کے لیے امریکی نگرانی کے ساتھ دو راستے دیے گئے تھے، ایک ایرانی پانیوں کے ذریعے اور دوسرا عمانی پانیوں کے ذریعے۔
حملے کی خبروں کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ ہوا، جسے ماہرین نے خلیجی تیل کی فراہمی کے معمول پر آنے میں تاخیر کے خدشات سے جوڑا۔
عمان کے قریب پیش آنے والا واقعہ اب دوبارہ اس بات پر توجہ مرکوز کر رہا ہے کہ مستقبل میں ایران کس حد تک آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم رکھے گا۔ جنگ سے پہلے یہ آبنائے دنیا کی روزانہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی پانچویں حصے کی فراہمی کو سنبھالتی تھی۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خلیج کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر ایران جہازوں کو دھمکاتا ہے یا انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے ’تو پھر ہمارے لیے مسئلہ ہوگا۔‘
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے پر اپنا کنٹرول جاری رکھے گا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو کہا کہ محفوظ راستہ صرف انہی راستوں سے ممکن ہوگا جو ایران نے مقرر کیے ہیں، اور جو جہاز ان کی خلاف ورزی کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی ایمبری کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو دو پاناما کے جھنڈے والے جہازوں کو راستہ بدلنے کا حکم بھی دیا۔



















































