میسی یا رونالڈو؟ نئی عالمی تحقیق نے فٹبالی پسند اور سیاسی رجحان کے درمیان دلچسپ تعلق ظاہر کردیا

0

سنگاپور کی نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور اسپین کی کے دارلحکومت میڈرڈ کے یونیورسٹی کارلوس سوم کے محققین کی ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے درمیان پسند کا تعلق کسی حد تک افراد کے سیاسی رجحانات سے بھی ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں دنیا کے 26 ممالک کے 10,661 افراد کو شامل کیا گیا، شرکاء سے دونوں فٹبالرز کے بارے میں رائے لی گئی اور ان کے سیاسی نظریات، میڈیا کے استعمال، شخصیت اور دیگر عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اہم نتائج:

  • خود کو لبرل یا ترقی پسند سمجھنے والے افراد میں میسی کی پسندیدگی نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔
  • خود کو قدامت پسند سمجھنے والے افراد میں رونالڈو کی پسندیدگی نسبتاً زیادہ پائی گئی۔
  • رونالڈو کے حامیوں میں خود اعتمادی، اتھارٹی کو اہمیت دینے کا رجحان اور مختصر ویڈیو پلیٹ فارمز کے استعمال کا تعلق بھی دیکھا گیا۔
  • میسی کو پسند کرنے والوں میں تجزیاتی اور غور و فکر پر مبنی سوچ کا رجحان نسبتاً زیادہ پایا گیا۔
  • نوجوانوں میں سیاسی نظریات اور فٹبالی پسند کے درمیان تعلق زیادہ مضبوط تھا، جبکہ بڑی عمر کے افراد میں یہ تعلق کمزور پایا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف ایک شماریاتی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کی سیاسی سوچ اور فٹبالی پسند اس عمومی رجحان سے مختلف ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کی عوامی شبیہ بھی اس فرق میں کردار ادا کرتی ہو، میسی کو عموماً خاموش، ٹیم پر توجہ دینے والا اور عاجز شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ رونالڈو کو خود اعتمادی، انفرادی کامیابی اور قائدانہ انداز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ تحقیق فٹبال کے دو بہترین کھلاڑیوں کے درمیان جاری بحث میں ایک نیا سماجی اور سیاسی زاویہ پیش کرتی ہے، تاہم محققین نے زور دیا ہے کہ اسے قطعی حقیقت کے بجائے ایک عمومی عالمی رجحان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔