بی وائی سی رہنماؤں کو عمر قید: پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کردیا

49

فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے ایچ آر سی پی نے فوری نظرثانی اور بلوچستان میں سیاسی مکالمے کے آغاز کا مطالبہ کردیا

کراچی انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کمیشن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر اراکین کی سزا کی مذمت کرتا ہے، بیان میں کہا گیا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاست نے بنیادی انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی وکالت اور پرامن جدوجہد کو بھی اسی انداز میں دیکھنے اور برتنے کی پالیسی جاری رکھی ہے جس طرح وہ عسکریت پسندی سے نمٹتی ہے۔

کمیشن کے مطابق اس طرزِ عمل کے نتیجے میں انتظامی اور عدالتی فیصلے غیر متوازن اور جانبدارانہ دکھائی دیتے ہیں، جس سے انصاف کے تقاضوں پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے فیصلے کا جلد از جلد ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور بلوچستان میں سیاسی مسائل کے حل کے لیے بامعنی سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ کو گوادر میں منعقد ہونے والے “راجی مچی” اجتماع کے دوران ایف سی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے، جس پر سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔