بلوچستان کے ضلع پنجگور سے جبری گمشدگی کا مزید ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے، یونیورسٹی کا طالب علم کو پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، پاکستانی فوج نے 10 جون کو پنجگور شہر میں واقع یونیورسٹی کے احاطے سے ایک نوجوان طالب علم کو حراست میں لیا۔ مذکورہ طالب علم کی شناخت زاہد ولد خدا دوست کے نام سے ہوئی ہے جو پنجگور، پروم کا رہائشی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زاہد کو یونیورسٹی کے احاطے سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ اس کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ آج رپورٹ ہونے والے جبری گمشدگی کے یہ چھٹا کیس کی تفصیلات ہیں۔ اس سے قبل 15 جون کو پنجگور کے علاقے کہدہ حکیم بازار سے سعد اللہ ولد غلام جان اور زیاب ولد کہدا کریم جان کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔
دوسری جانب آج صبح مزید تین افراد، عزیز ولد حسن، صدیق ولد جان محمد اور لطیف ولد حاجی سلیم کو ان کے گھروں سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

















































