بی وائی سی رہنماؤں کے خفیہ ٹرائل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم

1

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی پامالیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی قیادت کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کے خلاف تنظیم کی جانب سے کوئٹہ اور تربت سمیت مختلف علاقوں میں ایک وسیع عوامی بیداری اور پمفلٹ تقسیم کرنے کی مہم چلائی گئی ہے۔
بی وائی سی شال زون نے کوئٹہ کے مختلف تجارتی اور رہائشی علاقوں بشمول کلی قمبرانی، سچیاب، سمل، بروری روڈ، اور لیاقت بازار میں پمفلٹ تقسیم کیے۔ مہم کا مقصد عوام کو بی وائی سی رہنماؤں کی گزشتہ 14 ماہ سے جاری مبینہ غیر قانونی قید اور عدالتوں میں ہونے والے خفیہ یا ‘فیس لیس ٹرائلز’ (Faceless Trials) کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

تقسیم کیے گئے پمفلٹ کے متن کے مطابق، بلوچستان میں جاری انسانی اور قومی حقوق کی پامالیوں کی تاریخ طویل ہے، جہاں اب کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہا۔ صرف بلوچ شناخت کے ساتھ جڑ جانے والے فرد کو بھی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ آئے روز لاشیں پھینکنے، معصوم شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری گمشدگی کا شکار بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

پمفلٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ “پاکستان نے ہمیشہ بلوچ قوم کے خلاف جاری اس صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ کبھی نوجوانوں کو مسلح تنظیموں سے جوڑا جاتا ہے، تو کبھی خواتین کو جبری گمشدگی کا شکار بنا کر بزورِ جبر پریس کانفرنسز کرائی جاتی ہیں۔ آج بھی بلوچ سیاسی رہنماؤں کو بیرونی ایجنٹ یا تشدد پسند قرار دے کر ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ انہیں غیر قانونی طور پر جیلوں میں رکھا جا سکے۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قیام کے دن سے ہی مظالم کے خلاف شعوری جدوجہد کر رہی ہے۔ شہید حیات بلوچ کا قتل ہو یا شہید بالاچ مولا بخش سمیت سینکڑوں سپوتوں کا جعلی مقابلوں میں قتل عام، تنظیم ہمیشہ صفِ اول میں کھڑی رہی ہے۔ آج اسی آواز کو جرم قرار دے کر بی وائی سی کی قیادت کو 14 ماہ سے زائد عرصے سے پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے تاکہ بلوچ نسل کشی کو خاموشی سے آگے بڑھایا جا سکے۔

تربت اور کوئٹہ میں مہم کے دوران یہ بات نمایاں کی گئی کہ ریاست پرامن کارکنوں کو دبانے اور مزاحمتی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ‘فیس لیس ٹرائلز’ کا سہارا لے رہی ہے۔ بی وائی سی کے مطابق، یہ اقدامات کھلے اور شفاف ٹرائل کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کا دفاع کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے قانونی عمل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

پمفلٹ کے آخر میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بی وائی سی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اپنے رہنماؤں کی آواز بنیں۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ قومی شعور کے اس سوال کو ہر گھر تک پہنچایا جائے اور فکری طور پر اس دن کے لیے تیار رہا جائے جب سب سڑکوں پر نکل کر ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور جیلوں سے اپنے پیاروں کو باسلامت واپس لائیں، کیونکہ منظم تحریک کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ میسر نہیں ہے۔