میری قلم سے بندوق تک کا سفر اور سنگت نبیل کا کردار
تحریر: زربار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جب میں بہت چھوٹی تھی تب سے مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میں چاہتی تھی کہ میں بہت زیادہ پڑھوں اور خوب ترقی کروں اور جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی تو میری بڑی ہونے کے ساتھ ساتھ میری پڑھنے کا شوق بھی بڑھتا گیا لیکن میں بلوچستان کے ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتی تھی کہ وہاں پڑھائی کا ماحول بہت کم تھا یہ پھر یوں کہوں کہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ آج کل علاقے کے لوگوں کی محنت اور جدوجہد کی وجہ سے پڑھائی کا اچھا خاصا ماحول ہے۔ بہت سارے اسکول کھلے ہیں، سنٹر ہیں، کالج میں بھی پڑھائی کا ماحول ہے، لیکن میرے بچپن کے وقت ہمارے علاقے میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر تھی۔
میں نے جیسے تیسے کر کے اپنے علاقے میں ایف اے کی ڈگری حاصل کر لی۔ میٹرک تک میں ایک ریگولر طالبہ تھی۔ روز اسکول جاتی تھی لیکن اسکول کی پڑھائی برائے نام کی تھی۔ سبق تو ہم روز پڑھتے تھے لیکن سبق میں کیا پڑھتے تھے یہ ہمیں نہیں پتا تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سبق کبھی سمجھائی ہی نہیں جاتا تھا۔ میٹرک تک تو ہم صرف سیاہییاں پڑھتے تھے اور میٹرک کے بعد دو سال بغیر پڑھے امتحان دے کر ایف اے کی ڈگری حاصل کرلی۔ ڈگری تو میں نے امتحان دے کر حاصل کر لی تھی لیکن جو تعلیم میں حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے نہیں مل رہی تھی۔
جس طرح میں پڑھنا چاہتی تھی وہ تو مجھے نہ مل سکا لیکن ان سب نے میرے لیے ایک چیز صاف اور کلئیر کر دی تھی وہ تھا غلامی۔ ان سب میں مجھے یہ سمجھ میں آگئی تھی کہ میں ایک غلام ہوں، میری مادرِ وطن غیروں کے قبضے میں ہے۔ مجھے یہ سمجھ میں آگئی کہ پڑھائی سے دور ہونا میری بدقسمتی نہیں تھی بلکہ میری غلامی تھی۔ جب بچپن میں مجھے یہ احساس ہوا تو اسی دن میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اس غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لیے میں ہر ممکن کوشش کروں گی۔ایف اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد آگے پڑھنے کے لیے میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور یہی سے شروع ہوا میرا اصل سفر۔
داخلہ لیتے ہی میں نے اسٹوڈنٹس پولیٹکس میں حصہ لینا شروع کیا اور کئی سالوں تک میں نے اسٹوڈنٹس پولیٹکس میں جو تعلیم میں حاصل کرنا چاہتی تھی وہ مجھے یہی سے ملی۔ یہی سے میں نے وہ سارے قوموں کی تاریخ پڑھی جنہوں نے غلامی کے خلاف جنگ کی تھی اور آزادی حاصل کر لی تھی اور اس کے بعد میں شعوری طور پر پختہ ہو گئی اور میرے دل میں جو اپنی قوم و زمین کی محبت تھی وہ محبت ایک جنون میں بدل گئی۔
اس کے بعد اسٹوڈنٹس پولیٹکس سے فارغ ہو کر میں مسلح جدوجہد کا حصہ بن گئی۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا کہ میں اسٹوڈنٹس پولیٹکس کا حصہ تھی تو مجھے مسلح تنظیم تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوا۔ میں نے مسلح تنظیم جوائن کر لی اور ان سب میں میرے ایک دوست نے میری مدد کی اور وہاں پہلی بار میری ملاقات سنگت نبیل عرف علی اور سنگت ذکا عرف گرو سے ہوئی۔
گرو بہت خاموش اور کم بولنے والا تھا اس لیے ایک پورا دن میں نے گزارا تو سنگت گرو نے تقریباً چار یہ پانچ ہی بات کی تھیں لیکن اس پہلی ملاقات میں سنگت نبیل سے میں بہت متاثر ہوئی وہ میری آئیڈیل بن گئے۔ سنگت نبیل کے بارے میں جو بھی الفاظ لکھوں وہ کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے اندر ایک بہت بڑا سمندر تھا جسے بیان کرنا مجھ جیسے کی بس کی بات نہیں۔ اسی ملاقات میں سنگت نبیل نے مجھے میری قلم سے توپک تک کا یہ سفر سمجھایا اور میرے ہاتھ میں ایک پسٹل تھما دیا۔ اور مجھے یہ سمجھایا کہ میں جس طرح قلم چلا سکتی ہوں اسی طرح ہتھیار بھی چلا سکتی ہوں۔ ان کی باتوں میں اس طرح گم ہو گئی کہ اس پہلی ملاقات میں ہی میں نے اپنے آپ کو ڈھونڈ لیا۔ سنگت نبیل کی باتوں میں نہ صرف دم تھا بلکہ ان کی ہر ایک بات میں ایک سچائی تھی اور ان کی آنکھوں میں نہ دشمن کا خوف تھا اور نہ کسی اور سے ڈر۔ اگر ان کی آنکھوں میں کچھ جلھ رہا تھا تو وہ تھا اپنی زمین سے محبت اور اپنی قوم کی آزادی اور آنے والے کل کے لیے خواب۔
سنگت نبیل سے ملاقات کے بعد میں نے نہ صرف ہتھیار ہاتھ میں لیا بلکہ میں نے اسے چلایا بھی اور سنگت نبیل نے مجھے بڑے اچھے طریقے سے اسے چلانا بھی سکھایا۔ انہوں نے مجھے اس طرح سے سمجھایا کہ مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں پہلی بار ہتھیار اٹھا رہی ہوں۔
میں نے نہ صرف ہتھیار اٹھایا اور چلایا بلکہ اسی دن یہ حلف بھی لیا کہ جس ہتھیار کو میں نے اٹھایا ہے اسے ہمیشہ اپنی زمین اور قوم کی بقا کے لیے استعمال کروں گی اور اپنی آخری سانس تک اسے اور اس جدوجہد کو نہیں چھوڑوں گی اور ہمیشہ ایماندار رہوں گی اور اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے ہر وہ قربانی دینے کے لیے تیار رہوں گی جو وقت کی ضرورت ہو گی۔ میری قلم سے توپک کے اس سفر میں میرے دوست اور سنگت نبیل کا ایک اہم کردار رہا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































