ڈیرہ بگٹی، سوئی میں سرکاری حمایت یافتہ امان اللہ ٹھیکے دار کو نشانہ بنایا اور اس اعلامیہ کے توسط سے ہم بلوچ قومی مرکزی شاہراہ کو مکمل طور پر بند کرنے کا بھی اعلان کرتے ہیں – بی آر جی
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ سرمچاروں نے سوئی شہر میں سرکاری حمایت یافتہ حاجی امان اللہ بگٹی ٹھیکے دار کو اس کے ٹھکانے میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنایا۔ جس میں اس کا بھتیجا طارق اور دو سرکاری اہلکار کوژھا ولد کرمان بگٹی پولیس سپاہی اور غلام نبی بگٹی، جو کہ حکومت پاکستان ( سرفراز بگٹی ) کے طرف سے اس سرکاری حمایت یافتہ ٹھیکیدار کے حفاظت پر مامور تھے، شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مذکورہ ٹھیکدار کھٹ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے قریبی ساتھی ہے جو قابض فوج کے بطور سہولت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہم علاقے کے عام عوام کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ حاجی امان اللہ بگٹی اور ان کے جیسے تمام سرکاری حمایت یافتہ ٹھیکیداران کے ہر قسم کی مشینری کاروبار اور ان کے رہائش گاہوں کے قریب ہر گز نا رہیں۔
ترجمان نے مزید کہ اکہ بی آر جی اس بیان کے توسط سے ہم اس بلوچ قومی مرکزی شاہراہ کوئٹہ سے سندھ و پنجاب جانے والی ، این 65 کو ان تمام کاروباری ، تجارتی ٹرانسپورٹ کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جو ٹرانسپورٹرز اس روٹ پر بلوچ سرزمین سے نکلنے والی بلوچ قومی معدنیات کو نکال کر لیجانے والی سرکاری حمایت یافتہ ہر قسم کی تجارتی و غیر تجارتی ٹرانسپورٹ اور مشینری جو کہ قابض ریاست ( پنجاب ) کو معاشی حوالے سے مضبوط کرنے میں شب روز عمل پیرا ہیں لہٰذا اس بیان کے بعد اس قسم کے ٹرانسپورٹرز اور اس مالکان اپنے جانی و مالی نقصان کے خود ذمہ داری ہونگے۔
ترجمان نے کہا کہ عام عوامی ٹرانسپورٹ اس اعلانیہ سے مستثنیٰ ہونگے ۔

















































