بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے اس پالیسی بیان کے ذریعے بلوچ عوام، تمام متعلقہ حلقوں اور بالعموم دنیا بھر کو اغوا برائے تاوان کے مسئلے پر اپنی واضح اور مستقل تنظیمی پالیسی سے باقاعدہ آگاہ کرتی ہے، تاکہ بلوچ قوم کو یہ مکمل ادراک ہو کہ اس معاملے پر بی ایل اے کا تنظیمی اور نظریاتی مؤقف کیا ہے اور تنظیم اپنے عوام کے تحفظ کے لیئے کہاں کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے بلوچستان کی قومی آزادی اور خود مختاری کی جنگ ایک جامع عسکری ضابطہ اخلاق اور سیاسی نصب العین کے تحت لڑرہی ہے۔ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بی ایل اے اپنے معاشی ذرائع پیدا کرنے کے لیئے اغوا برائے تاوان جیسے غیراخلاقی اور سماج دشمن ہتھکنڈوں کو کسی بھی صورت جائز نہیں گردانتی۔ یہ تنظیم کی ایک اٹل پالیسی ہے کہ بی ایل اے کبھی بھی اغواء برائے تاوان میں ملوث نہیں ہوگی۔ ہمارا عسکری دائرہ کار صرف قابض ریاست کی فوج اور اس کے استحصالی اداروں کے خلاف ہے، کسی معصوم شہری، تاجر یا مقامی فرد کے خلاف نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ مختلف علاقوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں بعض جرائم پیشہ عناصر معصوم افراد کو اغوا کرنے کے بعد بی ایل اے کے نام کا سہارا لے کر تاوان طلب کرتے ہیں۔ ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایسے تمام عناصر کا بی ایل اے کے تنظیمی ڈھانچے، نیٹ ورکس یا سرمچاروں سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایل اے بلوچ عوام کو ہدایت کرتی ہے کہ تنظیم کے نام پر مانگے جانے والے کسی بھی قسم کے تاوان کو ہرگز ادا نہ کیا جائے۔ اگر کوئی بھی فرد یا گروہ بی ایل اے کے نام سے تاوان مانگے، تو فوری طور پر تنظیم کے بااعتماد اور آفیشل ذرائع کے ذریعے شکایت درج کروائیں۔ بی ایل اے شکایت کنندہ کی شناخت کو مکمل خفیہ رکھتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف سخت کاورائی کریگی۔ بی ایل اے صرف نظریاتی طور پر ہی نہیں، بلکہ عملی طور پر بھی اغوا برائے تاوان میں ملوث عناصر کے خلاف نبردآزما رہے گی۔














































