سفر خان صرف ایک نام یہ قربانی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ
تحریر: شولان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
سفر خان، یہ نام سن کر کچھ عجیب سا لگتا ہے، پر کیوں؟ شاید یہ ایک نام نہیں، یہ نام سے زیادہ ایک رنگ لگتا ہے۔ ایسا سرخ رنگ جو شاید میں نے کبھی نہیں دیکھا، پر میں محسوس کرتا ہوں، شاید یہ خون کا رنگ ہے، لہو کا رنگ ہے جو ہر اس شہید کے زخم سے ٹپکتا ہے جب وہ سینہ تان کر دشمن کی گولیوں کا سامنا کرتا ہے۔ یا پھر نہیں، یہ ایک خوشبو ہے، پر کیسی خوشبو؟ شاید خون کی، لہو کی، جو ہر شہید کے بدن سے نکلتی ہے، جس کی خوشبو پورے بلوچستان کی فضا میں سما جاتی ہے۔ یا نہیں، بس یہ ایک عام سا نام ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا گیا اور قربانی کے راستے پر چلتا گیا، جس کو ہم آج دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک عہد لگتا ہے، قربانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ لگتا ہے، جو ایک نام سے زیادہ ایک احساس لگتا ہے۔
وہ احساس جو ایک ماں کو ہوتا ہے جب اس کے گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے، یا وہ احساس جو گلزمین کو ہوتا ہے جب اس کی گود میں ایک سرمچار سوتا ہے، یا وہ احساس جو مجھے ہوتا ہے جب میں تصویر دیکھتا ہوں اپنے دور کے ایک ایسے عظیم انسان اور جنگی بامرد کا، جو لاکھوں مشکلیں اور انتہائی سخت حالات سہہ کر اور سخت تر ہوتا گیا، اور منظم تر ہوتا گیا، اور زیادہ پرجوش اور جفاکش بنتا گیا—اس کندن کی طرح جو لوہے سے بنتا ہے جب وہ بھٹی میں گرتا ہے۔
آپ کی اس قوت اور مضبوط ذہنی بیداری کو دیکھ کر میں حیران رہ جاتا تھا کہ وہ کون سی وجوہات تھیں جنہوں نے آپ کو دشمن سے اس حد تک نفرت سکھائی اور ہم مظلوموں سے اتنی محبت۔ شاید اس کی وجہ وہ انگریز تھے جنہوں نے اپنی مکاری اور چالبازیوں سے 108 سالوں تک ہمیں اپنی غلامی کے شکنجوں میں جکڑے رکھا، اور آپ کے ہم فکر میر محراب خان، میر عبدالکریم رئیسانی، قیصر خان، نور محمد پہلوانزئی مینگل (نورا مینگل) اور نہ جانے کتنے عظیم رہنماؤں کو موت کے گھاٹ اتار کر شہید کر دیا۔
یا اس کی وجہ یہ بےغیرت پنجابی ہیں جو 78 سالوں سے ہم پر ہر طرح کے ظلم ڈھاتے آ رہے ہیں، پھر چاہے وہ چاغی کے ایٹمی دھماکے ہوں جہاں آج بھی جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ اپاہج ہیں، یا نواب نوروز کے سامنے اس کے بیٹے کی پھانسی ہو، یا 1973 میں کوہلو سے بلوچ ماؤں اور بہنوں کو اغوا کر کے لاہور کے بازاروں میں ان کی بولی لگانا ہو، یا تربت میں بلا وجہ معصوم بچی (برمش) کے سامنے اس کی ماں (ملک ناز) کا قتل ہو، یا حیات اور بالاچ جیسے باصلاحیت نوجوانوں کا قتل ہو، اور ہزاروں کے حساب سے واقعات جن کے بارے میں آپ سوچتے تھے، جن کے بارے میں آپ پڑھتے تھے، اور انہی کو ذہن میں رکھ کر دشمن کے سامنے اس طرح قہر بن کر گرتے تھے۔
مکران کے پہاڑوں میں استاد سفو کے نام سے مشہور شہید شکر عرف سفر خان، 9 سالوں تک دشمن کو دھول چٹاتا رہا اور آخر کار 12 مئی 2023 کو اپنی ہم فکر ساتھی آسمی وفا، شکاری، کمک، دینار اور عمر کے ساتھ سرزمین کو اپنا لہو دے کر ہمیشہ کے لیے نمیران ہو کر شہید سفر خان (اول) اور ماسٹر سفر خان (جن کے نام سے آپ کا رکھا گیا تھا) کی طرح امر کردار بن کر ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اے مادرِ وطن، اور کتنے سفر خان کے لہو کی پیاسی ہو؟ بس حکم کرتے رہو، ہر دور میں ایک سفر خان آئے گا، ہر بار دشمن پر قہر بن کر گرے گا۔ یہ دور ہمارے شہمیر سفر خان کا تھا جو لہو دے کر گزر گیا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































