بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں خود ایک غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہیں، مگر افسوس کہ یہی عمل دن دہاڑے ریاستی اداروں کے ہاتھوں جاری ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مسلسل دھمکیوں، ہراسانیوں، گرفتاریوں اور جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی جانب سے یہ کہنا کہ تنظیم کو احتجاجی کیمپ بند کرنے اور پرامن جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس ریاستی رویے کی واضح عکاسی ہے جو ہر اُس آواز کو خاموش کرنا چاہتا ہے جو انسانی حقوق، انصاف اور زندگی کی بات کرے۔
انہوں نے کہاکہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6172 دنوں سے جاری احتجاجی کیمپ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے درد، انتظار اور امید کی علامت ہے۔ یہ وہ مائیں، بہنیں، بچے اور بزرگ ہیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے برسوں سے سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ لیکن بجائے اس کے کہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، انہیں دھمکایا جا رہا ہے۔
مزید کہا ہے کہ بی وائی سی کی قیادت گزشتہ ایک سال سے صرف اس لیے قید ہے کہ انہوں نے اس جبر کے خلاف پرامن آواز بلند کی۔ اب وی بی ایم پی کے رہنماؤں کو ہراساں کرنا اور دھمکیاں دینا انتہائی شرمناک عمل ہے۔ ریاست اگر واقعی مسئلے کا حل چاہتی ہے تو پرامن آوازوں کو خاموش کرنے کے بجائے اس گھنونے جرم کو بند کرے۔
انہوں نے کہاکہ دھمکیوں، جیلوں اور جبر سے شاید آوازیں دبانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، مگر ایک ماں سے اس کے بچے کی یاد نہیں چھینی جا سکتی، ایک بہن سے اس کے بھائی کی تلاش نہیں روکی جا سکتی۔ آخر کیسے کوئی اپنے پیاروں کی تلاش سے دستبردار ہو سکتا ہے؟ کیا زندہ انسان بھولے جا سکتے ہیں؟ کیا زندگی کی تمنا چھوڑی جا سکتی ہے؟
آخر میں کہاکہ اس جبر کے خلاف خاموشی ممکن نہیں۔ جب تک جبری گمشدگیاں جاری رہیں گی، مزاحمت اور انصاف کی آواز بھی زندہ رہے گی۔
















































