بلوچستان: مختلف علاقوں سے مزید 7 افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ

1

بلوچستان کے مختلف اضلاع سے مزید سات افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کمسن لڑکا، ایک گلوکار، مزدور، ماہی گیر اور ڈرائیور شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آواران کے رہائشی 23 سالہ جاوید بلوچ ولد قادر بخش کو 29 اپریل 2026 کی شام گوادر کے ڈھور چیک پوسٹ سے ایم آئی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ جاوید بلوچ بس ڈرائیور اور بس مالک بتائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے چاہ سر تربت سے 20 سالہ خلیل کریم ولد کریم بلوچ کو 30 اپریل 2026 کی صبح تقریباً 10 بجے ان کے علاقے سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا گیا۔ خلیل کریم کا تعلق بلیدہ میناز سے بتایا جاتا ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے گلوکار ہیں۔

ادھر ضلع گوادر کے علاقے پانوان جیوانی میں 19 اپریل 2026 کی رات تقریباً ڈیڑھ بجے ایف سی اور ایم آئی اہلکاروں نے گھروں پر چھاپوں کے دوران تین افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔ لاپتہ کیے جانے والوں میں 14 سالہ دلشاد داد ولد داد کریم، ڈرائیور علی فضل ولد فضل بلوچ، اور 19 سالہ ماہی گیر سہیل کریم ولد عبد الکریم شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ضلع چاغی کے علاقے شاہ سالار سے نومبر 2025 کے دوران دو افراد کی جبری گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق 24 سالہ عبدالحق شہزاد ولد عبدالحکیم ، جو پیشے کے اعتبار سے مزدور ہیں، کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔ جبکہ 30 سالہ مجید ولد محمد بلال، سکنہ کلی حاجی محمد چاغی، کو ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔