بلوچستان کے اضلاع چاغی اور گوادر سے دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع چاغی کے علاقے ہرماگے کے رہائشی نظام بلوچ ولد خدا رحم کو 28 اپریل 2026 کو سہ پہر تقریباً 3 بجے نوکنڈی بازار سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ نظام بلوچ ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھا، جو طویل عرصے سے بے روزگاری کے باعث بطور زمیاد ڈرائیور کام کر رہا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق نظام بلوچ کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب ضلع گوادر کے علاقے جیونی، پانوان میں بھی ایک اور جبری گمشدگی کا واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق 19 مئی 2026 کی شب پاکستانی فورسز نے پانوان میں حاجی صالح بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے ان کے چھوٹے بیٹے مختیار بلوچ کو حراست میں لے جایا گیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ مختیار بلوچ کو حراست میں لینے کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
مقامی سماجی حلقوں کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران جیونی، پانوان اور گردونواح سے دو درجن سے زائد بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

















































