کراچی میں سی ٹی ڈی پر حملے کی ذمہ داری سندھودیش روولیوشنری آرمی نے قبول کرلی

49

سندھودیش روولیوشنری آرمی (ایس آر اے) کل رات کراچی سپر ہائی وے پر جمالی پل کے قریب سی ٹی ڈی(CTD) پوليس موبائل پر ہونے والی فائرنگ، ایک اہلکار کے ہلاک اور ایک کے شديد زخمی ہونے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے – سوڈھو سندھی

سندھودیش روولیوشنری آرمی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ پنجاب سامراج نے ایک طرف سندھ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے سندھ کی جغرافیہ، سمندر، دريا، وسائل اور زمینوں سميت ہر چیز پر مستقل قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اپنے منصوبوں اور سازشوں کو تيز کر دیا ہے، تو دوسری طرف پنجابی فوج اور ایجنسیوں کی نگرانی میں کام کرنے والے پولیس ادارے سی ٹی ڈی(CTD) کو قومی تحریک کے خلاف آپریشن کرنے کے مکمل اختیارات دے دیے ہیں۔ جو ادارہ اپنے آقاؤں پنجابی فوج، رینجرز اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر قومی کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور شہادتوں میں ملوث رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی فاشسٹ ادارے سی ٹی ڈی کا ہی کارنامہ تھا کہ اپنے کسی حادثے کا شکار ہونے والے عزیز کے علاج کے لیے سول ہسپتال کراچی میں موجود اللہ ڈنو(اے ڈی) راہموں اور نواب راہموں کو 14 مئی 2022ع کو وہاں سے اغوا کر کے لاپتہ کیا گیا تھا اور ٹھیک تین دنوں کے بعد 18 مئی کو ماڑی پور کراچی میں جعلی مقابلہ ظاہر کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔

ترجمان نے کہ اکہ سندھودیش روولیوشنری آرمی، شہید اے ڈی راہموں اور شہید نواب راہموں کے شہادت والے دن پر انہیں قومی اور انقلابی سلام پيش کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ سندھ اور قومی تحریک کے خلاف ہونے والے آپریشن میں ملوث سی ٹی ڈی اور ان کے آقاؤں فوج، رینجرز اور ایجنسیوں کے خلاف حملوں کو مزید تیز کیا جائے گا، کیونکہ خون کا بدلہ خون ہی ہوتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سندھودیش روولیوشنری آرمی(ایس آر اے) سندھودیش کی مکمل قومی آزادی تک اپنی جنگ جاری رکھنے کے عہد کو دہراتی ہے۔