خاران: سی ٹی ڈی کے ہاتھوں نقدی و زیورات کی لوٹ مار، متاثرین کا احتجاج

29

بلوچستان کے ضلع خاران میں پاکستانی فورسز کے ذیلی ادارے سی ٹی ڈی کی جانب سے چادر و چار دیواری کی پامالی، خواتین پر تشدد، اور گھر میں موجود 16 لاکھ روپے نقدی اور 16 تولہ سونا لے جانے کے واقعے کے خلاف متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دو روز قبل رات کے وقت خاران میں منیب نامی شخص کے گھر پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔ اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین پر تشدد کیا، انہیں گالیاں دیں، اور 16 لاکھ روپے نقدی اور 16 تولہ سونا اپنے ساتھ لے گئے۔

واقعے کے خلاف خاران کے چیف چوک میں ہونے والے احتجاج میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

متاثرین میں شامل ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انہیں خاموش رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بصورتِ دیگر ان کے بیٹے کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سی ٹی ڈی پر ماضی میں بھی جعلی مقابلوں، جبری گمشدگیوں اور گھروں میں لوٹ مار کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس ادارے پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔