غمخوار حیات کے قتل نے ریاستی جبر اور اس کے پراکسی گروہوں کی سفاک حقیقت کو بے نقاب کردیا۔ بی وائی سی

14

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ تنظیم نوشکی میں معروف براہوی دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ سفاکانہ قتل بلوچستان میں مکمل استثنیٰ کے ساتھ سرگرم ریاستی پشت پناہی یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے جاری جبر کا ایک اور المناک واقعہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ پروفیسر غمخوار حیات نہ صرف ایک قابلِ احترام استاد اور ادبی شخصیت تھے بلکہ علم، ثقافت اور قومی شعور کی ایک مضبوط آواز بھی تھے۔ دانشوروں، ادیبوں اور اہلِ علم کو نشانہ بنا کر ریاست اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ہر اُس آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں جو معاشرے کو سیاسی اور فکری طور پر زندہ رکھتی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچستان کئی دہائیوں سے طلبہ، سیاسی کارکنوں، صحافیوں، شاعروں اور اساتذہ کے منظم قتل اور نشانہ بنائے جانے کا گواہ رہا ہے۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بھی اسی خوف، جبر اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فکری مزاحمت کو کچلنا اور بلوچ شناخت کو خاموش کرنا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی ریاستی اداروں اور ان کے ڈیتھ اسکواڈز کو خبردار کرتی ہے کہ تشدد، قتل اور دہشت پھیلا کر نہ سچ کو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایک محکوم قوم کے اجتماعی شعور کو دبایا جا سکتا ہے۔ جبر کا ہر نیا عمل بلوچستان میں عسکریت، استثنیٰ اور قانون کی پامالی کی حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے۔

مزید کہاکہ ماورائے عدالت قتل کے ذریعے بے لگام طاقت کا یہ مسلسل استعمال عوامی غصے اور مزاحمت کو مزید گہرا کرے گا۔ اس قتل میں ملوث تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

بیان کے آخر میں کہاکہ اگرچہ پروفیسر غمخوار حیات کی آواز کو جسمانی طور پر خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن ان کے نظریات، تحریریں اور براہوی ادب کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔