بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقے بلیجی، خاص طور پر تاریخی ماہی گیر بستی عبدالرحمٰن گوٹھ اور اس کی ملحقہ ساحلی پٹیوں میں ریاست کی مسلح فورسز کی جانب سے مقامی (بلوچ، سندھی، اور دیگر اقوام ) رہائشیوں کے گھروں کو بلڈوز کرنا اور انہیں طاقت کے زور پر ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنا انتہائی قابلِ مذمت اور ریاستی جبر کی بدترین شکل ہے۔ یہ علاقہ، جو صدیوں پرانی مقامی تاریخی روایت کا امین ہے، اب براہِ راست ریاستی غصب کے نشانے پر ہے۔
ترجمان نے کہاکہ بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ سمیت کراچی کے یہ ساحلی علاقے قیامِ پاکستان سے بھی دہائیوں قبل کے آباد ہیں۔ لہٰذا، ان تاریخی زمینوں پر سرکاری افسران اور ریاستی اداروں کے ملکیت کا دعویٰ اور ان کو سرکاری زمین (اسٹیٹ لینڈ) اور ترقی کے نام پر یا دیگر جبری جعلی ذرائع کو استعمال کرکے بزور اپنی تحویل میں لینا تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے ناجائز قبضے کو قانونی شکل دینے کی ایک سازش ہے۔ اس جبر کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت سامنے آئی جب ریاستی مسلح فورسز کے افسران نے جعلی اور فرضی دستاویز دکھا کر جبر و دھونس کا استعمال کیا اور بنا کسی قانونی جواز کے مقامی رہائشیوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ اس استحصالی گٹھ جوڑ کے خلاف جب ایک مقامی باشندے نے اپنی آبائی زمین کو بچانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی۔ جواب میں، اس تاریخی اراضی پر قابض ایک بااثر ریاستی افسر (کرنل) نے اپنے اختیارات کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے، الٹا اسی شہری کے خلاف مار پیٹ، دھمکیوں اور اراضی پر قبضے کی جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر (FIR) درج کروا دی۔ یہ سراسر ریاستی دھونس ہے کہ جو خود غاصب ہے، وہ ریاستی مشینری کو استعمال کر کے مظلوم کو ہی ظالم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس افسر نے سندھ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے نہ صرف اس زمین کے جعلی کاغذات تیار کروائے ہیں بلکہ ان علاقوں میں اراضی کی لیز پر مکمل قانونی پابندی کے باوجود، اسے غیر قانونی طور پر اپنے نام لیز بھی کروا لیا ہے۔ اب اس قبضے کو طول دینے کے لیے مقامی آبادی میں منظم طریقے سے خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ نام نہاد مسروقہ املاک یا دیگر فرضی مقدمات کی آڑ میں، اپنی ہی زمین کے قریب سے گزرنے والے عام بلوچ اور دیگر اقوام کے مقامی باشندوں کو ہراساں کر کے بلاجواز گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ ظلم و بربریت کی انتہا یہ ہے کہ ریاستی اہلکاروں کی جانب سے نہتے مقامی لوگوں پر سیدھی فائرنگ تک کی گئی ہے اور علاقے کے رہائشی اس ریاستی جبر کے شاہد ہیں۔
مزید کہاکہ ریاست ان ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے دراصل کراچی کی ان قدیم آبادیوں کو بے گھر کر کے بلیجی اور عبدالرحمٰن گوٹھ کی قیمتی ساحلی پٹی اور سمندری وسائل پر اپنا مکمل عسکری اور کمرشل تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ قبضہ اس منظم ریاستی استحصالی منصوبے کا حصہ ہے جس کا واحد مقصد کراچی کے مقامی بلوچ اور دیگر قدیم باشندوں کو ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے بے دخل کر کے ان کی تاریخی شناخت ختم کرنا ہے۔
ترجمان نے کہاکہ ریاست کا نام نہاد ترقی کا بیانیہ بھی ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کی واضح مثال ملیر ایکسپریس وے کا منصوبہ ہے، جس کی آڑ میں ملیر کے مقامی علاقوں کو مسمار کیا گیا، زرعی زمینیں تباہ کی گئیں اور مقامی آبادی کو دربدر کر کے سرمایہ دار اشرافیہ کے لیے روڈ اور ان کے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سہولیات دی گئیں۔ اسی استحصالی طرزِ عمل کی ایک اور مثال ماڑی پور کے پرانے ماہی گیر علاقے یونس آباد میں دیکھی گئی۔ یونس آباد بھی کراچی کی ان پرانے ماہیگیر بستیوں میں سے ایک ہے جہاں کئی اقوام آباد ہیں، لیکن وہاں حکومتی اداروں نے رہائشی ماہیگیروں کے تاریخی زمینی حقوق کو پامال کرتے ہوئے سرکاری رہائشی سوسائٹی کی توسیع اور سرکاری اراضی کے نام پر غاصبانہ کارروائی کی اور محض قریبی سوسائٹی کو بڑا کرنے کی غرض سے یونس آباد کا اسپورٹس گراؤنڈ، ہیلتھ آفس اور کئی مکینوں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔ آج بلیجی کے ساحل پر بھی بعینہٖ انہی روایتی ہتھکنڈوں کو دہرایا جا رہا ہے، جہاں قدیم بلوچ اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں سے ان کی چھت چھینی جا رہی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بلیجی، عبدالرحمٰن گوٹھ اور یونس آباد سمیت کراچی کے تمام مقامی علاقوں میں جاری یہ غیر آئینی ریاستی آپریشن اور گھروں کی مسماری فی الفور روکی جائے۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو ان کی آبائی زمینوں پر باعزت طریقے سے بحال کر کے ان کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان قدیم بستیوں پر ہونے والے اس ریاستی قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا فوری نوٹس لیں۔ ہم تمام باشعور عوام، سیاسی و سماجی کارکنان اور خاص طور پر کراچی کے تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوم بلوچ، سندھی اور دیگر مظلوم اقوام اور ماہیگیر بستیوں کے رہائشیوں کی توانا آواز بنیں اور اس ظلم کے خلاف ان کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ مقامی آبادی کو ان کے جینے کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جا سکے۔
آخر میں کہاکہ آج کراچی کے بلوچ اور دیگر قدیم مقامی علاقوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے اور ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر آج ہم نے اس غاصبانہ قبضے کو پرامن سیاسی مزاحمت سے نہیں روکا، تو کل مقامی عوام اس شہر میں اپنی صدیوں پرانی ملکیتی زمینوں سے مکمل طور پر ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور اپنے ہی آبائی شہر میں محض ایک بے اختیار اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہم اپنے وجود، شناخت اور زمین کے دفاع کے لیے منظم ہوں اور اس ریاستی قبضے کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔


















































