نامور شاعر و ادیب پروفیسر غمخوار حیات کی نمازِ جنازہ کلی مینگل قبرستان میں ادا کر دی گئی۔
نمازِ جنازہ میں قبائلی عمائدین، سیاسی نمائندوں، اساتذہ، طلبہ، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ پروفیسر غمخوار حیات کو آج نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں
حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ “ڈیتھ اسکواڈز” کے فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیا گیا۔
پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے معروف شاعر، ادیب، مترجم، افسانہ نگار اور انشائیہ نگار تھے۔ انہوں نے مختلف اصنافِ ادب میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور تقریباً بیس کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ راسکوہ ادبی دیوان اور اوتان کلچر اکیڈمی کے بانیوں میں بھی شامل تھے۔
ان کے قتل پر سیاسی، سماجی، ادبی اور علمی حلقوں سمیت ان کے قارئین نے شدید غم و افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ غمخوار حیات کی شہادت سے نہ صرف براہوئی ادب بلکہ علم و دانش کی دنیا کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔


















































