بلوچستان: آئی ایس پی آر کی چمالنگ دھماکے میں میجر سمیت 5 اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق، بی ایل اے نے ذمہ داری قبول کر لی

1

بلوچستان میں ہونے والے حملے کی تصدیق پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کرتے ہوئے تفصیلات جاری کر دی ہیں جبکہ دوسری جانب مسلح بلوچ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں 7 مبینہ آزادی پسند بھی مارے گئے ہیں، جبکہ اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق جھڑپ میں 5 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک میجر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے قافلے کو ایک منظم حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق حملے میں پہلے ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول دھماکے سے اڑایا گیا، جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ بی ایل اے کے مطابق اس کارروائی میں پاکستان فوج کے میجر توصیف سمئت 8 فوجی اہلکار ہلاک ہوئیں۔

بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔

مزید برآں نوشکی سے متصل شیخ واصل کے مقام پر ہونے والے ایک حملے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب فورسز معدنیات لیجانے والئ گاڑیوں کے قافلے کو سیکورٹی فراہم کررہے تھے کہ مسلح افراد نے مذکورہ قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، حملے میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ ڈرائیوروں کے جانی نقصانات کی بھی اطلاعات ہیں۔

دریں اثناء دالبندین میں دوران ناکہ بندی مسلح افراد نے “سیاہ دک” کاپر پروجیکٹ سے منسلک تین افراد اور ریکوڈک پروجیکٹ کی ایک گاڑی کو تحویل میں لے لیا۔

شیخ واصل اور دالبندین میں کاروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔