تربت: پاکستانی فورسز کے زیر حراست نوجوان کی لاش برآمد

1

ضلع کیچ کے علاقے زامران سے تعلق رکھنے والے برہان الدین ولد محمد نعیم کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق برہان الدین کو 28 اکتوبر 2025 کو شام تقریباً 6:30 بجے ڈیتھ اسکواڈز اور ایم آئی اہلکاروں نے تربت کے علاقے بگ میری میں واقع ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق چھ ماہ اور 14 دن تک اہل خانہ اذیت، بے یقینی اور امید کے عالم میں ان کی واپسی کے منتظر رہے، مگر انصاف کے بجائے انہیں برہان الدین کی تشدد زدہ لاش موصول ہوئی۔

بی وائی سی کے مطابق لاش پر بہیمانہ تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ برہان الدین کو ریاستی تحویل میں رکھا گیا، کبھی کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے گئے، اور بعد ازاں انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔

ایک بیان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم کے خلاف جاری جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ غریب بلوچ نوجوان بھی محفوظ نہیں جو صرف اپنے خاندان کی بقا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تنظیم نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور فوری اقدامات کریں، کیونکہ بلوچستان کے لوگ روزانہ جبر، تشدد اور نسل کشی جیسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں