گوادر کنٹانی واقعہ، پاکستانی ریاست روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ بلوچ شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔ بی ایس او آزاد

1

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان شولان بلوچ نے کہا ہے کہ کنٹانی قتلِ عام، جس میں پاکستانی کوسٹ گارڈ نے گوادر کے علاقے کنٹانی میں بلوچ مزدوروں کو نشانہ بنا کر قتل کیا، ریاستی بربریت کی انتہائی مثال ہے۔ روزگار اور روٹی کی تلاش میں نکلنے والے تقریباً ایک درجن مزدور شہید ہوئے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی قبضے کے تحت رہنے والے بلوچ شہریوں کو ان کے بنیادی معاشی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور انہیں انتہائی سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی بلوچ مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا، ان کی گاڑیاں، دکانیں اور چھوٹے کاروبار تباہ کیے گئے جبکہ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور تذلیل کا سامنا ہے۔ چند ماہ قبل جیونی کے علاقے میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں دو مزدور مارے گئے تھے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ شہری ان انتہائی حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومتی اہلکار، جن میں کوسٹ گارڈ، ایف سی، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے شامل ہیں، علاقے میں غریب بلوچ ڈرائیوروں اور دکانداروں سے بھتہ لینے میں مصروف ہیں۔ مخصوص رقم لینے کے بعد بھی مزدوروں کو مسلسل تشدد، تذلیل اور ان کی گاڑیوں اور دکانوں کو جلانے کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جو بلوچ قوم پر نوآبادیاتی طرزِ جبر ہے۔

مزید کہا ہے کہ کنٹانی قتلِ عام، بلوچ نسل کشی کے وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔ پاکستانی ریاست روزانہ کی بنیاد پر بے گناہ بلوچ شہریوں کا خون بہا رہی ہے۔ بلوچستان میں زندگی کے ہر شعبے کو تباہ کر دیا گیا ہے، معاشی حقوق چھین لیے گئے ہیں اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے جس سے بلوچ آبادی شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔

آخر میں کہاکہ ہم بلوچ قوم، تنظیموں اور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کنٹانی قتلِ عام کو اجاگر کرنے، اس کے خلاف مزاحمت اور احتجاج میں اپنا کردار ادا کریں۔