بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے زامران ڈمبانی سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ کسان اور معتبر قبائلی شخصیت کہدہ پیر محمد کو 2 مئی 2026 کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے بیٹے عبداللہ کے ہمراہ حراست میں لے لیا۔ اہلخانہ پر تشدد بھی کیا گیا۔ کہدہ پیر محمد اس سے قبل علاقے میں بلوچ شہریوں کے گھروں کو جلانے اور مسمار کرنے کے خلاف آواز اٹھا چکے تھے۔
بیان کے مطابق، حراست میں لینے کے محض پانچ گھنٹے بعد پیر محمد اور ان کے 25 سالہ بیٹے عبداللہ بلوچ کی لاشیں ایف سی کیمپ کے قریب پھینکی گئیں، جسے بی وائی سی نے ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔
اسی طرح ایک اور واقعے میں ضلع پنجگور کے علاقے تَسپ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سرکاری اسکول کے ملازم ایاز بلوچ کو 30 اپریل 2026 کی رات نو بج کر تیس منٹ پر نوک آباد میں ان کے گھر کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ بی وائی سی کے مطابق یہ کارروائی ایک “ڈیتھ اسکواڈ” کے ذریعے کی گئی۔
بی وائی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ بلوچستان میں جاری ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت جبری گمشدگیاں، ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور خواتین کی غیر قانونی گرفتاریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
تنظیم نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اس کے عوام مسلسل جبر، ناانصافی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ عالمی برادری بلوچستان کے وسائل تو دیکھتی ہے مگر یہاں کے عوام کی تکالیف پر خاموش کیوں ہے۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ ریاستی جبر کے یہ اقدامات بلوچ عوام میں مزاحمت کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔


















































