بلوچستان: انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت نئی فہرست، سیاسی افراد و رشتہ داروں پر سفری پابندی شامل

72

حکومتِ بلوچستان کی فورتھ شیڈول فہرست جاری، سیاسی کارکنوں کے اہلِ خانہ کے نام شامل مختلف پابندیاں عائد۔

کوئٹہ حکومتِ بلوچستان نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت درجنوں افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، تاہم اس اقدام پر سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

مقامی حلقوں کے مطابق فہرست میں شامل کئی افراد کا تعلق بلوچ یکجہتی کمیٹی و دیگر سیاسی پارٹیوں سے ہے یا وہ اس کے کارکنوں کے قریبی رشتہ دار ہیں، جن میں والد اور خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک سیاسی و سماجی تنظیم ہے جس کی قیادت اس وقت ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف مقدمات میں جیل میں ہے جن میں دہشت گردی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان طویل عرصے سے سیاسی کشیدگی اور شورش کا مرکز رہا ہے، جہاں ریاست اور مقامی گروہوں کے درمیان تنازع جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض سیاسی جماعتیں متعدد بار الزام عائد کر چکی ہیں کہ ریاستی ادارے سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، جن میں گرفتاری، تشدد اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔

سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ کئی مواقع پر سیاسی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دے کر نہ صرف انہیں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی دباؤ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض کیسز میں اہلِ خانہ کو بھی حراست میں لے کر کارکنوں کو سرگرمیاں ترک کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو سخت پابندیوں کا سامنا ہوگا، جن میں بھاری مچلکے جمع کروانا، پاسپورٹ جمع کروانا، نقل و حرکت پر پابندی اور پولیس کو باقاعدہ رپورٹنگ شامل ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان اس کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔