مستونگ: دوسرے روز دشت میں صورتحال کشیدہ، فورسز پر حملے، گاڑیاں تباہ

287

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں آج دوسرے روز بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں پاکستانی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کررہی ہے، گذشتہ شب فورسز کو ایک دفعہ پھر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دشت کے علاقے کمبیلا میں گذشتہ مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کو دو مقام پر حملوں میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فورسز کی گاڑیوں جل کر خاکستر ہوئی جبکہ جبکہ ہلاک اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر پڑی دیکھی گئی۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے ہلاک اہلکاروں کا اسلحہ بھی اپنی تحویل میں لیا ہے۔

دشت میں اس وقت جھڑپوں کا آغاز جب گذشتہ روز صبح سویرے پاکستانی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر آپریشن کا آغاز کیا تاہم مسلح افراد نے آپریشن میں مصروف اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا۔

اسی دوران دشت مسوری کنڈ کے مقام پر فورسز کے مرکزی کیمپ کو مسلح افراد کی بھاری تعداد نے حملے میں نشانہ بنایا جبکہ شام کے وقت ڈغاری کراس کے مقام پر فورسز کی دو گاڑیوں کو گھات لگائے مسلح افراد نے حملوں میں نشانہ بنایا۔

حکام نے حملوں میں اے ٹی ایف اہلکار، ہیڈکانسٹیبل رحمت اللہ خلجی کے ہلاکت اور چھ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے جس کے حوالے سے تاحال حکام نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔

گذشتہ دنوں کمبیلا کے علاقے میں ایک ریڈار سسٹم کو بلوچ لبریشن آرمی نے کنٹرول میں لینے کے بعد تباہ کردیا گیا تھا جبکہ اسی علاقے میں ایم پی اے عاصم کرد گیلو کے کیمپ کو بھی تباہ کرنے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔