دشت اور ڈغاری میں پاکستانی فورسز کیمپ و گاڑیوں پر حملے

60

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے متصل ڈغاری اور دشت کے علاقوں میں پاکستانی فورسز کو مسلح حملوں میں جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آج صبح پاکستانی فورسز نے دشت کے علاقے کمبیلا میں علاقے کو گھیرے میں لیکر فوجی آپریشن کا آغاز کیا تاہم مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کو حملوں میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فورسز کے سات اہلکاروں کے ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم حکام نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

دریں اثناء دشت کنڈ مسوری کے مقام پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے پاکستانی فورسز کے کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ علاقے میں ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز کی  سنی گئی۔

مزید برآں شام کے وقت ڈغاری کراس کے مقام پاکستانی فورسز کی دو گاڑیوں کو اس وقت گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ ٹرین کو سیکورٹی فراہم کرنے کیلئے گشت کررہے تھے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز کی ایک گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان واقعات کے حوالے سے تاحال حکام نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔ علاقے میں بلوچ آزادی پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔

گذشتہ دنوں کمبیلا کے علاقے میں ایک ریڈار سسٹم کو بلوچ لبریشن آرمی نے کنٹرول میں لینے کے بعد تباہ کردیا گیا تھا جبکہ اسی علاقے میں ایم پی اے عاصم کرد گیلو کے کیمپ کو بھی تباہ کرنے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی تھی۔