بی ایل ایف نے متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرلی، قافلوں پر حملے، دھماکے، چوکیوں پر قبضے اور ٹاورز تباہ

10

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 11 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے آھوری میں قابض پاکستانی فوج کے 8 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے راکٹ لانچرز، اسنائپر رائفلز اور خودکار بھاری ہتھیاروں سے قافلے کی اگلی اور پچھلی گاڑیوں کو بیک وقت نشانہ بنایا تاکہ دشمن کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ اس مربوط حملے میں دشمن کی 3 گاڑیاں ناکارہ بنا دی گئیں، جس کے باعث 5 فوجی اہلکار موقع پر ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 11 اپریل 2026 کو کیچ کے علاقے دشت میں کنچتی کراس کے مقام پر فرنٹئر کور (ایف سی) کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی  بم (IED) دھماکے میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 3 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ترجمان نے کہا کہ اسی روز 11 اپریل 2026 کو بی ایل ایف کے شہری گوریلہ دستے نے کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں شادینی کے مقام پر مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا۔ سادہ وردی میں ملبوس پولیس فورس کے تین اہلکار شاہراہ پر ناکہ لگا کر مقامی ڈرائیوروں سے جبری بھتہ وصول کر رہے تھے۔ تنظیم کے شہری گوریلہ دستے نے کارروائی کرتے ہوئے بھتہ خوری میں مصروف ان اہلکاروں کو گھیرے میں لے کر گرفتار کر لیا۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے سرکاری اسلحہ اور گاڑی قبضے میں لے کر ضبط کر لی گئی۔ بعد ازاں، مقامی بلوچ اور پشتون ہونے کی وجہ سے تنظیم نے انہیں انسانی ہمدردی کے پیشِ نظر سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو ایک منظم کارروائی کے دوران چاغی کے علاقے امین آباد میں قائم پولیس چوکی پر حملہ کرکے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ قبضے کے بعد چوکی میں موجود تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر عسکری ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔

ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے 12 اپریل 2026 کو چاغی ہی کے علاقے کرودُک میں قائم پولیس چوکی کو نشانہ بنایا۔ سرمچارروں نے  چوکی پر حملہ کر کے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور وہاں موجود سرکاری اسلحہ ضبط کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے تسلسل میں ہمارے سرمچاروں نے علاقے سے گزرنے والی مین شاہراہ پر ایک گھنٹے تک سخت ناکہ بندی کی۔ ناکہ بندی کے دوران شاہراہ پر مکمل عسکری کنٹرول برقرار رکھ کر دشمن کی کسی بھی ممکنہ نقل و حرکت کو روکنے کے لیے اسنیپ چیکنگ کی۔ تزویراتی مقاصد کے حصول کے بعد سرمچار ضبط شدہ اسلحہ سمیت باحفاظت اپنے ٹھکانوں کی جانب روانہ ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز 11 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے بارکھان کے علاقے تکھڑا میں قائم ایک موبائل ٹاور کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے ٹاور کے آلات کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنایا اور بعد ازاں ٹاور کے مین کنٹرول روم اور مشینری کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ ٹاور نہ صرف دشمن کے مواصلاتی رابطوں کا ذریعہ تھا بلکہ اسے مقامی آبادی کی جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا، جسے سرمچاروں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 8 اپریل 2026 کو جھاؤ کے علاقے کوٹو میں موبائل ٹاور پر حملہ کیا۔ ٹاور کی مشینری اور جنریٹر روم کو آگ لگا کر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ دشمن ان ٹاورز کے ذریعے سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے، لیکن ہم دشمن کے ایسے تمام حربوں کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ قبل ازیں، گزشتہ ماہ 15 مارچ کو سرمچاروں نے مشکے کے علاقے پروار بدڑو میں واقع موبائل ٹاور کی مشینری کو نذرِ آتش کر کے تباہ کر دیا تھا۔ ٹاور کے حساس حصوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ دشمن کا مواصلاتی نیٹ ورک اس دشوار گزار علاقے میں مکمل طور پر منقطع ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ آواران، دشت، چاغی، کوئٹہ، بارکھان، جھاؤ اور مشکے میں ہونے والی ان تمام کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی تباہ کی گئی، جب کہ کوئٹہ اور چاغی میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ و گاڑی ضبط کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں ناکہ بندی اور  دشمن کے مواصلاتی و جاسوسی نظام کو تباہ کر دیا گیا۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ مقبوضہ بلوچستان کی شاہراہوں اور گلیوں میں دشمن کی ہر حرکت پر ہماری نظر ہے اور ہم کسی بھی وقت، کہیں بھی وار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔