ریاستی بیانیہ اور طاقت کا جبر
بلوچستان میں زبردستی لاتعلقی کی منظم داستان
تحریر: نوتک بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ریاستی بیانیہ اور طاقت کے زور پر عام بلوچ سے زبردستی لاتعلقی کے بیانات جو بلوچستان میں ریاستی جبر کی ایک منظم داستان کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ، دہائیوں سے نہ صرف قدرتی دولت کی لوٹ مار کا شکار رہا ہے بلکہ ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں (enforced disappearances) ، ماورائے عدالت قتل (extrajudicial killings) اور اجتماعی سزا (collective punishment) کی ایک خوفناک داستان کا بھی مرکزی کردار بنا ہوا ہے۔ اس خطے میں ریاستی بیانیہ (state narrative) اور طاقت کے زور پر ایک ایسا منظم نظام قائم کیا گیا ہے جس کے تحت عام بلوچ شہریوں، خاندانوں اور لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کو بندوق کے دھانے پر تشدد اور دباؤ کے تحت ویڈیو پیغامات، تحریری بیانات اور پریس کانفرنسوں میں اپنے ہی پیاروں، لختِ جگر (اولاد، بھائیوں، بیٹیوں، والدین اور دیگر قریبی رشتہ داروں) سے لاتعلقی کا اعلان کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ عمل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد بلوچ قوم کی مزاحمت کو توڑنا، خاندانوں کو تقسیم کرنا، سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور بلوچ آزادی تحریک کو “دہشت گردی” کا لیبل دے کر بین الاقوامی اور مقامی سطح پر بدنام کرنا ہے۔ یہ جبر نہ صرف نفسیاتی تشدد (psychological torture) کا مظہر ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ جہاں انفرادی ذمہ داری کا اصول (principle of individual responsibility) کو نظر انداز کر کے پورے خاندان کو سزا دی جاتی ہے۔
ستمبر 2025 کو بلوچستان ہوم ڈیپارٹمنٹ سرکاری نوٹیفکیشن جارہی کرتی ہے جو لاتعلقی کا حلف نامہ اور ریاستی دھمکی اور اس منظم جبر کو بنیادی جواز بنادی جاتی ہیں۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، ہر شہری، والدین، سرپرست اور رشتہ دار کو یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ اگر کوئی فرد غائب ہوجائے یا غیر ریاستی/مسلح گروپ (non-state or militant group) میں شامل ہوجائے تو اس کی اطلاع سات دن کے اندر قریبی پولیس سٹیشن اور فرنٹیئر کور (FC) یا آرمی کو دی جائے۔ غائب افراد کے لیے پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعات 118 اور 202 کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) 1997 کی دفعہ 11(1)(EEE) کے تحت رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔
اس سے بھی زیادہ خوفناک حصہ ان خاندانوں کے لیے ہے جن کے رشتہ دار پہلے ہی مسلح تنظیموں میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہیں سات دن کے اندر ایک حلف نامہ (sworn affidavit) جمع کرانا ہوگا جس میں وہ اپنے رشتہ دار سے علیحدگی اور لاتعلقی (separation and disownment) کا تحریری اعلان کریں۔ یہ حلف نامہ PPC کی دفعات 120/120-A کے ساتھ ATA کی متعلقہ دفعات کے تحت ہوگا، اگر خاندان تعمیل نہ کرے تو اسے سہولت کار (abettor/facilitator) قرار دے کر ATA کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سزا میں جائیداد ضبط کرنا، سرکاری نوکری سے برخاستگی، ریاستی مالی اور فلاحی سہولیات سے محرومی، اور فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنا شامل ہے۔
یہ پالیسی واضح طور پر خاندانوں پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں سے لاتعلقی کا بیان دیں ورنہ ان کو مجرم قرار دے دیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیم Human Rights Council of Balochistan (HRCB) نے اسے “collective punishment” قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ HRCB کے بیان میں کہا گیا کہ اس حکم نامے سے پورے خاندانوں کو ایک فرد کے مبینہ اقدامات کی سزا دی جارہی ہے، جو انفرادی ذمہ داری اور منصفانہ عمل (due process) کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک ایسا پالیسی ہے جو انسانیت کے خلاف جرم کی نشانیاں رکھتی ہے۔ خاندانوں کو پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور (FC) کے پاس رپورٹ کرنے کا حکم دینا ، جن اداروں پر جبری گمشدگیوں کا الزام ہے جان بوجھ کر ذلت، جبر اور نفسیاتی تشدد ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے بعد متعدد خاندانوں نے پریس کانفرنسوں میں اپنے رشتہ داروں سے لاتعلقی کا اعلان کیا، جو اکثر بندوق کے زور پر یا شدید دباؤ کے تحت ہوتا ہے۔ یہ بیانات ریاستی میڈیا پر نشر کیے جاتے ہیں تاکہ بلوچ مزاحمت کو خاندانی ردِعمل کے طور پر پیش کیا جائے۔
ریاستی جبر کا ایک اور خوفناک پہلو جبری ویڈیو پیغامات ہیں۔ لاپتہ افراد کو سیکیورٹی فورسز کی حراست میں تشدد اور دباؤ کے تحت اسکرپٹڈ بیانات پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان ویڈیوز میں وہ نہ صرف اپنے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہیں بلکہ اپنے خاندان سے لاتعلقی کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک بلوچ باپ اپنے جبری گمشدہ بیٹے کے خلاف بیان دیتے ہوئے رو پڑتا ہے اور بلوچی میں کہتا ہے کہ “ظالموں، میرا بیٹا واپس کرو، میں کھانا بھی نہیں کھا سکتا۔” یہ ویڈیوز نہ صرف لاپتہ افراد بلکہ ان کے خاندانوں پر مزید نفسیاتی اذیت ڈالتے ہیں۔
یہ عمل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک پیٹرن ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی ہیومن رائٹس ونگ Paank اور دیگر تنظیموں نے متعدد ایسے کیسز کی دستاویز کی ہیں جہاں لاپتہ افراد کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یا وہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف لڑتے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ جبری اعترافات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، بشمول تشدد کی ممانعت اور International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR) کے تحت منصفانہ ٹرائل کا حق۔
ریاستی جبر بلوچستان میں صرف بیانات اور حلف ناموں تک محدود نہیں۔ یہ ایک منظم اور جاری مہم ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی تازہ رپورٹس اس کی تصدیق کرتی ہیں 2025 کا سال Baloch Yakjehti Committee (BYC) کی رپورٹ کے مطابق 1,223 افراد جبری طور پر گمشدہ ہوئے، جن میں 18 خواتین اور 75 نابالغ شامل ہیں۔ ان میں سے 832 اب بھی لاپتہ ہیں۔ نومبر 2025 کو Human Rights Council of Balochistan (HRCB) نے 106 نئے کیسز اور 42 ماورائے عدالت قتل رپورٹ کیے۔ دسمبر 2025 Paank نے 86 جبری گمشدگیاں اور 41 افراد کی رہائی (تشدد کے بعد) رپورٹ کی اور جنوری 2026 کو Paank کی ماہانہ رپورٹ میں 82 جبری گمشدگیاں، جن میں خواتین اور نوجوان شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ شدہ کیسز ہیں؛ بہت سے خاندان خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں کرتے۔ سیکیورٹی فورسز (آرمی، FC، CTD) خفیہ حراست گاہوں میں لوگوں کو رکھتی ہیں، تشدد کرتی ہیں اور بعض اوقات kill and dump پالیسی کے تحت لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ طلبہ لیڈرز، صحافی، شاعر، کسان اور عام شہری جن کی واحد جرم ریاست کی پالیسیوں پر تنقید یا بلوچ حقوق کی آواز اٹھانا ہے نشانہ بنتے ہیں۔ اجتماعی سزا کا ایک اور پہلو جو ایک فرد کی وجہ سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے کئی افراد کو اغوا کیا جاتا ہے تاکہ باقی لوگ لاتعلقی کا بیان دیں۔ BYC اور HRCB نے ایسے کیسز کی متعدد مثالیں دی ہیں جہاں خواتین اور نابالغ بھی نشانہ بنے۔
اس غیر انسانی ایکٹ جس کی وجہ سے خاندانوں کی تباہی، سماجی تقسیم اور نفسیاتی اذیت جیسی اذیتوں سے دو چار ہوتے ہیں اس جبر کا سب سے بڑا شکار عام بلوچ خاندان ہیں۔ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سالوں سے سڑکوں پر احتجاج کرتی ہیں، آنسو بہاتی ہیں اور اپنے پیاروں کی بازیابی مانگتی ہیں۔ جب انہی خاندانوں کو حلف نامہ دینے یا ویڈیو میں لاتعلقی کا بیان دینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یہ ان کی عزت، رشتوں اور سماجی ڈھانچے پر حملہ ہے۔ ایک طرف لاپتہ افراد زندانوں میں تشدد سہہ رہے ہوتے ہیں، دوسری طرف ان کے خاندان کو سہولت کار کا لیبل لگا کر معاشی اور سماجی طور پر تباہ کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بلوچ قوم کے خاندانی بندھنوں کو توڑنے کی کوشش ہے۔
یہ جبر بین الاقوامی سطح پر بھی نوٹس کیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے مارچ 2025 میں BYC کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مئی 2025 میں پاکستان حکومت سے اپیل کی کہ بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں پر کریک ڈاؤن بند کیا جائے۔ Human Rights Watch اور دیگر تنظیموں نے بار بار “We Can Torture, Kill, or Keep You for Years” جیسی رپورٹس میں اسے دستاویز کیا ہے۔ بلوچستان میں ریاستی بیانیہ اور طاقت کے زور پر عام بلوچ سے زبردستی لاتعلقی کے بیانات ایک ایسی حقیقت ہے جو ہزاروں خاندانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ستمبر 2025 کی نوٹیفکیشن، جبری ویڈیوز، پریس کانفرنسز اور 2025-2026 کی جبری گمشدگیوں کی رپورٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی حکمتِ عملی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں Paank، HRCB، BYC، ایمنسٹی، HRW اور اقوام متحدہ بار بار اس کی مذمت کر چکی ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































