انسانی حقوق کے کارکن فتح بلوچ کا یو این کونسل میں خطاب: بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے

44

انسانی حقوق کے کارکن فتح بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 68ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بات کر رہا ہوں، جہاں پاکستان اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے اجتماعی سزا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ مہینوں میں پاکستانی حکام نے کھلے عام ایسے اقدامات کا دفاع کیا ہے جو سیکیورٹی کے نام پر پوری کمیونٹیز کو سزا دیتے ہیں۔ نام نہاد انسدادِ دہشت گردی اور عوامی نظم و ضبط کے قوانین کے تحت، حراست، نگرانی، اور نقل و حرکت پر پابندیوں جیسے وسیع اختیارات کو معمول بنا دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہاکہ عملی طور پر یہ اقدامات قانون کے نفاذ کے لیے نہیں ہیں بلکہ سیاسی سرگرمیوں اور آواز اٹھانے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سیاسی کارکنوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا ہے۔ خاندانوں کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ پورے محلوں میں چھاپے مارے جاتے ہیں اور طویل فوجی آپریشن کیے جاتے ہیں جو تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جبری گمشدگیاں ایک دستاویزی اور تاحال حل طلب بحران ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو جوابات کے بجائے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید کہاکہ اس کا نتیجہ خوف کی فضا کی صورت میں نکلتا ہے۔ صحافی خود سنسرشپ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ بولنے سے ہچکچاتے ہیں۔ پُرامن احتجاج کی قیادت کرنے والی خواتین کو نگرانی، قید اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی کسی بھی صورت میں سیاسی اظہار پر پوری کمیونٹی کو سزا دینے کا جواز نہیں بن سکتی۔ بین الاقوامی قانون انفرادی ذمہ داری اور مناسب قانونی کارروائی (due process) کا تقاضا کرتا ہے۔

آخر میں کہاکہ ہم اس کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان سے مطالبہ کرے کہ اجتماعی سزا کا خاتمہ کرے، آزادانہ تحقیقات کی اجازت دے، اور بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔