تنظیم کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں شامل فدائین اور جھڑپوں میں جانبحق سرمچاروں کے تفصیلات میڈیا کو فراہم کئے جارہے ہیں۔
بی ایل اے نے اپنے تنظیم کے آفیشل چینل ہکل پر جاری کردہ تفصیلات میں بتایا ہے کہ مزمل بلوچ عرف رؤف ولد محمود بلوچ، سکنہ خدابادان، پنجگور نے سال 2025 میں بی ایل اے شمولیت اختیار کی، انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے بی ایس اکنامکس میں کیا تھا۔
تنظیم کے مطابق مزمل بلوچ عرف رؤف کی ذہانت، بہادری اور جفاکشی کو دیکھتے ہوئے انہیں تنظیم کے انٹیلیجنس ونگ زراب میں شامل کیا گیا، جہاں انہوں نے انتہائی محنت، ذمہ داری اور رازداری کے اصولوں کے تحت کام کیا۔
انٹیلیجنس کے شعبے میں کام کرنا گہری بصیرت، صبر اور درست تجزیاتی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے، اور رؤف انہی خصوصیات کے حامل سرمچار تھے، ان کی فکری سمجھ اور عملی کارکردگی نے انہیں اُن افراد میں شامل کر دیا جو پس منظر میں رہ کر بھی تحریک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بی ایل اے نے کہا ہے آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران کوئٹہ کے محاذ پر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے، سریاب کے علاقے ولی جیٹ میں دشمن فوج کے ساتھ طویل جھڑپ کے دوران انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور یوں تحریکِ آزادی کے اوراق میں اپنا نام درج کرا گئے۔
ہکل میڈیا نے فیض آباد، ڈھاڈر کچھی سے تعلق رکھنے والے تنظیم کے ایس ٹی او ایس غلام جیلانی عرف میران ولد غلام ربانی کے حوالے بتایا ہے کہ ڈھاڈر کچھی کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے غلام جیلانی نے سال 2024 میں بی ایل اے حصہ بنے اور وہ اُن سرمچاروں میں شامل تھے جنہوں نے قومی غلامی کو تقدیر ماننے کے بجائے اس کے خلاف مزاحمت کو اپنا راستہ بنایا۔
تنظیم کے مطابق انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کیا کہ ایک باشعور انسان جب اپنی قوم کی آزادی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے تو اس کے قدم کسی خوف یا مصلحت کے آگے نہیں رکتے۔ انہی اوصاف کے باعث وہ تنظیم کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) کا حصہ بنے۔
ہکل میڈیا نے بتایا آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران کوئٹہ کے محاذ پر میران اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔ کوئٹہ کے محاذ پر سریاب کے علاقے ولی جیٹ میں دشمن کے خلاف ایک طویل جھڑپ کے دوران انہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
تنظیم کے مطابق میڈیکل کے طالب علم اور ایس ٹی او ایس رکن ظہور بلوچ عرف پھلی ولد شاہ محمد، سکنہ اسپلنجی، مستونگ اُن سرمچاروں میں شامل تھے جن کی زندگی عزم، قربانی اور مسلسل مزاحمت کی علامت بن گئی، ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے باوجود انہوں نے آرام دہ زندگی کے راستے کو چھوڑ کر قومی آزادی کی جنگ کا انتخاب کیا، ان کے دل میں اپنی دھرتی کی آزادی کا ایسا یقین موجود تھا جس نے انہیں ہر خطرے کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔
بی ایل اے نے کہا کوئٹہ کے محاذ پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ ایک انقلابی سپاہی کی اصل طاقت اس کا عزم اور اس کا نظریہ ہوتا ہے، اپنے وطن کو آزاد کرنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے انہوں نے آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران کوئٹہ کے محاذ پر سریاب کے علاقے ولی جیٹ میں دشمن کے خلاف آخری دم تک لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا یوں اپنی قربانی کے ذریعے وہ یہ پیغام چھوڑ گئے کہ آزادی کی راہ میں ڈٹ جانے والے کردار تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے سرمچار وں کے حوالے بتایا ہے کہ گرّانی، مستونگ کے رہائشی شاہد بنگلزئی عرف کمانڈو ولد عبدالواحد بنگلزئی 17 دسمبر 2024 میں تنظیم کا حصہ بن کر ایس ٹی او ایس میں ذمہ داریاں سرانجام دئے۔
انکے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شاہد بنگلزئی آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران کوئٹہ کے محاذ پر موجود تھے، ان کی سنجیدگی، ذمہ داری اور عملی مہارت کے باعث انہیں تنظیم کے اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشن اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) میں شامل کیا گیا۔
تنظیم نے بتایا آپریشن ہیروف فیز دو کے دوران وہ کوئٹہ کے محاذ پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود رہے، جہاں انہوں نے دشمن کی عسکری برتری کو چیلنج کیا، سریاب کے علاقے ولی جیٹ میں دشمن فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے اور اسی معرکے میں شہید ہوگئے۔
ہکل میڈیا کے مطابق شاہد بنگلزئی کی جدوجہد اور قربانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بلوچ سرمچار اپنی بہادری، حکمتِ عملی اور جفاکشی کے ذریعے دشمن کے مضبوط سے مضبوط قلعے کو بھی زمین بوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بی ایل اے میڈیا کے مطابق شہید یونس زہری عرف سارنگ ولد عبدالقیوم زہری سکنہ کہن، زہری 30 جون 2025 میں تنظیم کا حصہ بنیں اور زہری و قلات کے محاذ پر ذمہ داریاں سرانجام دیے۔
یونس زہری، جنہیں انقلابی حلقوں میں ‘سارنگ’ کے نام سے پکارا جاتا تھا زہری کی ان قدیم پہاڑیوں کے امین تھے جہاں کی مٹی میں مزاحمت کی جڑیں بہت گہری ہیں، 30 جون 2025 کو جب انہوں نے باقاعدہ طور پر بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی تو ان کے پاس نہ صرف ایک بندوق تھی بلکہ ایک پختہ سیاسی و فکری شعور بھی تھا جو انہوں نے اپنی مٹی پر ہوتے مظالم کو دیکھ کر حاصل کیا تھا۔
تنا تب کے مطابق انہوں نے بہت کم وقت میں اپنی عسکری مہارت اور نظم وضبط کی بدولت زہری اور قلات کے کٹھن محاذوں پر اپنی شناخت ایک نڈر سپاہی کے طور پر کروائی۔
ہکل میڈیا نے انکے حوالے بتایا ہے کہ سارنگ ان نوجوانوں میں سے تھے جو خاموشی سے اپنے قومی فرائض سرانجام دینے پر یقین رکھتے تھے۔ جب آپریشن ہیروف کا طبل بجا، تو یونس زہری نے نوشکی کے محاذ پر دشمن کے خلاف سینہ سپر ہونے کا فیصلہ کیا، نوشکی کی تپتی زمین پر ہونے والی شدید جھڑپوں میں، انہوں نے دشمن کی عددی برتری کی پرواہ کیئے بغیر آخری گولی اور آخری سانس تک مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔


















































