ادبی تنظیم دودمان کے زیرِ اہتمام جرمنی کے شہر گوٹگن میں ہفتے کے روز ایک ادبی و ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور ادب دوست افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کو تین اہم نشستوں میں تقسیم کیا گیا، جنہوں نے حاضرین کو علم، ادب اور موسیقی کے خوبصورت امتزاج سے روشناس کرایا۔
تقریب کے پہلے سیشن میں بلوچی ثقافت اور تہذیب کے موضوع پر ایک علمی لیکچر پیش کیا گیا۔ اس نشست میں مقررین نے بلوچی قوم کی تاریخی جڑوں، روایات، سماجی اقدار اور زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ بلوچی تہذیب صدیوں پر محیط ایک بھرپور ثقافتی ورثہ رکھتی ہے جس میں مہمان نوازی، بہادری، روایت پسندی اور شعری روایت نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اس سیشن نے حاضرین کو بلوچی تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا اور نوجوان نسل کو اپنی شناخت سے جڑے رہنے کی ترغیب دی۔
دوسرا سیشن حال ہی میں انتقال کر جانے والے عظیم بلوچی شاعر مجید کی یاد میں منعقد کیا گیا۔ اس مشاعرے میں مختلف شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے مرحوم شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شاعروں نے محبت، یاد، ثقافت اور قومی احساسات کے موضوعات پر خوبصورت اشعار پیش کیے۔ اس موقع پر مقررین نے مجید صاحب کی ادبی خدمات اور بلوچی شاعری میں ان کے نمایاں کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ نشست نہایت جذباتی اور ادبی اعتبار سے بھرپور رہی جس نے حاضرین کو گہرا متاثر کیا۔
تیسرا سیشن موسیقی پر مشتمل تھا جس میں جرمنی میں مقیم بلوچی بنجو نواز بالی بلوچ نے اپنی شاندار پرفارمنس پیش کی۔ انہوں نے بلوچی موسیقی کی روایتی دھنیں بنجو پر پیش کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ ان کی موسیقی نے تقریب کے ماحول کو مزید پرجوش اور یادگار بنا دیا۔ حاضرین نے اس خوبصورت پیشکش کو بے حد سراہا اور بالی بلوچ کی فنی مہارت کو خوب داد دی۔



















































