فنانشل ٹائمز: اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو برسوں پہلے ہی ہیک کر لیا تھا

39

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے کئی برسوں پر محیط خفیہ انٹیلی جنس مہم چلائی، کئی برس سے تہران کے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرکے نگرانی کی جا رہی تھی، تہران کے ٹریفک کیمروں کی تصاویر کو خفیہ طریقے سے تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں موجود سرورز تک منتقل کیا جاتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق ان کیمروں کا زاویہ خاص طور پر اہم تھا جس کی مدد سے سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں، گاڑیاں پارک کرنے کے مقامات اور کمپاؤنڈ کے اندرونی معمولات پر نظر رکھی جاتی رہی، اسرائیلی انٹیلی جنس نے پیچیدہ الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک اینالیسس کے ذریعے سکیورٹی گارڈز اور دیگر متعلقہ افراد کی رہائش، ڈیوٹی اوقات، سفر کے راستوں اور ذمہ داریوں کا مکمل پیٹرن آف لائف تیار کیا، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مخصوص وقت پر کون کہاں موجود ہوگا۔

یہ کارروائی صرف کیمروں تک محدود نہیں تھی بلکہ موبائل فون ٹاورز میں خلل ڈالنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے، تاکہ حفاظتی عملے کو ممکنہ وارننگ نہ مل سکے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار کے بقول ہم تہران کو ایسے جانتے تھے جیسے یروشلم کو جانتے ہیں، اس پورے نیٹ ورک میں اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200، موساد کے انسانی ذرائع اور فوجی انٹیلی جنس کی روزانہ رپورٹس شامل تھیں جنہوں نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کر کے اہداف کی نشاندہی کی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے سائبر حملوں، ڈرونز اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنایا اور متعدد سائنس دانوں اور فوجی افسران کو نشانہ بنایا، اسپارو نامی میزائل، جو ایک ہزار کلومیٹر سے زائد فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس حکمت عملی کا حصہ تھا۔

رپورٹ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات شاید کبھی منظرِ عام پر نہ آئیں کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے ذرائع اور طریقہ کار کو خفیہ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔