آپریشن ھیروف 2.0 اور بیانیوں کی جنگ – ٹی بی پی رپورٹ

422

آپریشن ھیروف 2.0 اور بیانیوں کی جنگ

ٹی بی پی رپورٹ

31 جنوری 2026 کی علی الصبح، بلوچستان بھر کے رہائشی دھماکوں کی آوازوں سے جاگ اٹھے، چند ہی منٹوں میں مسلح افراد ہائی ویز، سڑکوں، گلیوں، تھانوں اور کم از کم درجن بھر شہروں میں فوجی تنصیبات کے اطراف نظر آنے لگے۔

بعد ازاں بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے اعلان کیا کہ اس نے “آپریشن ھیروف” کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، ایک ایسا کثیر مرحلہ حملہ جسے تنظیم پورے خطے میں بلوچ خودمختاری کی بحالی کی مہم قرار دیتی ہے۔

پاکستان کے لیے، جو عرصہ دراز سے بلوچ مسلح تحریک کو منتشر، بیرونی مدد یافتہ اور عسکری طور پر محدود شدہ دکھاتا آیا ہے، یہ حملے وسعت اور ہم آہنگی کے اعتبار سے بے مثال تھے، تاہم کئی مبصرین کے نزدیک اس کارروائی کا سب سے اہم پہلو صرف اس کا جغرافیائی پھیلاؤ نہیں تھا بلکہ وہ تیزی تھی جس کے ساتھ اس نے ریاست کی معلومات پر قابو پانے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا۔

اگلے ایک ہفتے تک علاقائی جھڑپوں کے ساتھ ساتھ ایک متوازی بیانیاتی جنگ بھی جاری رہی ایک ایسی جنگ جس پر ریاست دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

پاکستان کا سرکاری بیانیہ

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا کہ مربوط حملے پہلے ہی دن پسپا کر دیے گئے، حالانکہ جھڑپیں تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہیں، یکم فروری کے ابتدائی بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ حملے “غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کیے گئے جن کا مقصد بلوچستان میں امن کو درہم برہم کرنا تھا۔

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری جواب دے کر حملے ناکام بنا دیے اور 92 حملہ آوروں کو مارنے کا دعویٰ کیا، اس کے مطابق 18 عام شہری اور 15 سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

اسی روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نوشکی اور دالبندین میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کی کوششیں، جن میں ایک مبینہ خودکش حملہ بھی شامل تھا، ناکام بنا دی گئی ہیں اور تمام اہداف کو غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔

2 اور 3 فروری کے دوران حکام نے اس تاثر کو رد کیا کہ بلوچ جنگجوؤں نے کسی بھی علاقے کا کنٹرول حاصل کیا ہے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، جبکہ ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق پولیس اور ایف سی نے کئی مقامات پر دہشت گرد حملوں کی کوششیں ناکام بنا دیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے تسلیم کیا کہ نوشکی میں بی ایل اے کے جنگجوؤں سے نمٹنے میں کچھ وقت لگا، مگر ان کا دعویٰ تھا کہ ضلع مکمل طور پر کلیئر کردیا گیا ہے۔

ریاستی بیانیے کا مرکزی عنصر فوری طور پر بیرونی مداخلت کا الزام تھا وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام لگایا کہ بھارت ان حملوں کے پیچھے ہے اور اس نے بھارتی ایجنسیوں اور مسلح گروہوں کے مشترکہ منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا۔

وزیر دفاع اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی یہ الزام دہرایا، جبکہ حکام نے افغان حکومت پر بھی الزام لگایا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں میں استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی۔

سرکاری حکام نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ جنگجوؤں کے لیے عام شہریوں کی کوئی ہمدردی نہیں ہے، بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے آپریشن ہیروف کی سخت مذمت اور مخالفت کی ہے۔

بگٹی نے بی بی سی کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا کہ حملوں میں 1000 سے 1200 جنگجو شامل تھے اور کہا کہ اصل تعداد زیادہ سے زیادہ 200 یا 250 تھی، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں بی ایل اے کے جنگجوؤں کی مجموعی تعداد معلوم نہیں، مگر تخمینہ 4000 سے 5000 کے درمیان ہے۔

سرفراز بگٹی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ جن افراد کے رشتہ دار مسلح تنظیموں میں شامل ہیں، وہ بھی پکڑے جا سکتے ہیں، ان کے مطابق خاندانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کو اطلاع دیں، حکومتی ترجمان نے بعد میں کہا کہ مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت کے بعد انکے اہل خانہ کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔

5 فروری کو آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ ہفتہ بھر کی جوابی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، جس میں 216 جنگجو مارے گئے، جبکہ 22 سیکیورٹی اہلکار اور 36 عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں نے مسلح تنظیموں کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور آپریشنل صلاحیتوں کو نمایاں طور پر نقصان پہنچایا ہے۔

ریاستی بیانیے کے بعض عناصر بعد میں سرکاری اہلکاروں کے بیانات سے بھی متصادم نکلے، وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اصل میں 45 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے، نہ کہ 22، پولیس نے بھی بتایا کہ نوشکی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے، جو اس دعوے کے خلاف تھا کہ پہلی ہی دن حملہ پسپا کر دیا گیا تھا۔

عوام بطور بیانیاتی کردار

آپریشن ہیروف 2.0 کے دوران عوامی رویے نے ریاست کے اس دعوے کو سب سے پہلے چیلنج کیا کہ بی ایل اے کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔

حملوں کے دوران سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں کئی علاقوں میں شہری سرمچاروں یعنی بلوچ جنگجوؤں کے پاس جاتے ہوئے، انہیں پانی، کھانا اور مدد دیتے ہوئے نظر آئے نوجوان، خواتین اور بچے مسلح جنگجوؤں کے ساتھ تصویریں کھنچواتے اور ان کے ساتھ چلتے دکھائی دیے۔

نوشکی میں عوام کھل کر بی ایل اے کے جنگجوؤں کے آس پاس جمع تھے ایک ویڈیو میں مسلح شخص براھوئی زبان میں لوگوں سے خطاب کررہا تھا اور لوگ بلا خوف سن رہے تھے جو سرکاری بیانیے سے بالکل مختلف تھا۔

پورے آپریشن ھیروف کے دوران شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز سڑکوں پر گشت، تباہ شدہ عمارتیں، بند بازار، عوامی اجتماعات مسلسل سامنے آتی رہیں بعض ویڈیوز میں خواتین جنگجوؤں کے لیے دعائیں کرتی نظر آئیں۔

کوئٹہ کے ایک رہائشی نے ٹی بی پی کو بتایا کہ عام دنوں میں شہری نقل و حرکت فوجی ہراسانی اور جبری گمشدگی کے خوف میں گزرتی ہے، مگر اس دن گلیوں کی نگرانی مقامی اور مانوس چہروں کے ہاتھ میں تھی۔ پہلی بار باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہوا۔

ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ مقامی لوگوں نے جنگجوؤں کو پہچان لیا کیونکہ وہ انہی محلوں اور قصبوں سے تعلق رکھتے تھے، اس نے مزید کہا کہ بلوچ جنگجؤں کے حملے عمومی طور پر فوجی تنصیبات اور ریاستی منصوبوں پر ہوتے ہیں، نہ کہ عام شہریوں پر یہی وجہ ہے کہ عوام لڑائی کے دوران خوفزدہ نہیں ہوئے۔

انکا ماننا تھا کہ ریاست کی جانب سے بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر طویل پابندی نے کچھ نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کی طرف دھکیل دیا ہے۔

شہری ہلاکتیں جو سرکاری موقف سے مطابقت نہیں رکھتیں

پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہا کہ لڑائی کے دوران 36 شہری مارے گئے اور تاثر دیا کہ زیادہ تر ہلاکتیں جنگجوؤں کے حملوں میں ہوئیں مگر ہومین رائٹس کونسل آف بلوچستان “ایچ آر سی بی” کی رپورٹ نے متعدد ایسے واقعات درج کیے جو اس سے مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔

ایچ آر سی بی نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران ہدفی و بے دریغ قتل 30 درج کیے، بارہ مزدوروں کے خاندانوں پر مشتمل کمپا ؤنڈ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد مارے گئے، تربت میں 15 سالہ بچہ مارٹر فائر سے جانبحق ہوا، نوشکی میں ڈرون حملے میں ایک کمسن بچہ مارا گیا، کیڈٹ کالج نوشکی کے قریب سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دس مسافر مارے گئے۔

ایچ آر سی بی نے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے سرکاری اعدادوشمار کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ دیگر ذرائع سے شدید متصادم ہیں ان کے مطابق ریاست نے کسی مارے گئے شخص کا نام، پروفائل یا حالاتِ موت جاری نہیں کیے۔

بی ایل اے نے معلوماتی میدان کیسے سنبھالا؟

بی ایل اے نے آپریشن ہیروف 2.0 کے آغاز کے چند منٹوں میں ہی مسلسل بیانات، آڈیو پیغامات، ویڈیوز اور جنگی اپ ڈیٹس جاری کرنا شروع کردئے جبکہ ریاستی اداروں نے کئی گھنٹوں تک کوئی باقاعدہ ردعمل نہیں دیا۔

بعد ازاں بی ایل اے کمانڈر ان چیف بشیر زیب بلوچ کی ویڈیو سامنے آئی، جو بلوچستان کے اندر سے فلمائی گئی بتائی گئی۔ جہاں انہوں نے عوام سے اپیل کی یہ جدوجہد کسی فرد واحد کی نہیں، اجتماعی شعور کی ہے جب قوم متحد ہو جائے تو دشمن اپنی طاقت کے باوجود شکست سے بچ نہیں سکتا۔

بی ایل اے کی آپریشن ھیروف کے پہلے ہی دن درجنوں ویڈیوز سامنے آئیں جن میں جنگجو پولیس اسٹیشنوں، سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات کے اندر دکھائی دیے، بعض ویڈیوز میں نوشکی کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر بھی بی ایل اے کی حراست میں دکھائی دیے جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا۔

چھ دن تک بی ایل اے اور عوام کی جانب سے جاری مواد نے ریاست کو معلوماتی میدان میں دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔

سرکاری بیانیے کا انہدام

آپریشن ہیروف 2.0 کے دوران ریاستی بیانیہ بیرونی ہاتھ، فوری کارروائی، دہشت گردوں کا خاتمہ پہلی بار مؤثر ثابت نہیں ہوا کیونکہ معلوماتی ماحول ریاست کے کنٹرول میں نہیں رہا۔

بی ایل اے کی ویڈیوز، آڈیو ریکارڈنگ، زمینی فوٹیج اور شہریوں کی بنائی گئی ریئل ٹائم ویڈیوز نے سرکاری دعوؤں کو مسلسل چیلنج کیا۔

صحافی شاہزیب جلالی نے بلوچستان کو انفارمیشن بلیک ہول قرار دیا جہاں ریاست بے ترتیب اعدادوشمار جاری کرتی ہے جبکہ مسلح گروہ میدان سے براہ راست مواد جاری کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ریاستی بیانیہ اس لیے بھی بکھر رہا ہے کیونکہ سرکاری ادارے آپس میں بھی مختلف اعدادوشمار دیتے ہیں، اور میڈیا ریاست پر انحصار کے باعث آزادانہ تصدیق سے قاصر ہے۔

سیاسی تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ ریاست کا پورا بیانیہ بلوچ عوام کو قائل کرنے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان پراپر “پنجاب” کے ناظرین کو مطمئن کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے ٹی وی پر حکام ریت میں سر چھپا لیتے ہیں اور مکمل طور پر ایک خیالی تصویر پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام کا اصل ہدف اپنے اعلیٰ افسران کو کامیابی دکھانا ہوتا ہے، چاہے نتائج جعلی ہوں اس کے برعکس انہوں نے بی ایل اے کی حکمت عملی کو سوچی سمجھی اور ماپی تلی قرار دیا جو عام شہریوں، خاص طور پر بلوچ اور پشتون عوام کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہے، جس سے اس کا مقامی سپورٹ بیس برقرار ہے۔

کاکڑ نے کہا کہ ریاست کا بیانیہ بلوچستان میں عوامی تجربات سے مطابقت نہیں رکھتا، اسی لیے بلوچ علاقوں میں بی ایل اے کی حمایت میں کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ استحکام کے لیے لازمی ہے کہ ریاست طاقت کے بجائے سیاسی نوعیت کے بحران کو تسلیم کرے۔

نتیجہ

آپریشن ہیروف 2.0 نے ثابت کیا کہ بلوچستان کے تنازعات اب صرف عسکری لڑائی تک محدود نہیں رہے۔ معلومات پر کنٹرول اور واقعات کی قابلِ اعتماد تفہیم پیش کرنا بھی اتنا ہی فیصلہ کن محاذ بن چکا ہے اس دوران متضاد بیانیوں نے عوامی رائے اور زمینی صورتحال کی تشریح پر گہرے اثرات ڈالے۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ بیانیہ قائم رکھنے کی صلاحیت کبھی کبھار میدانِ جنگ سے بھی زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔