بلوچستان میں جبری بے دخلی، گھروں کی مسماری اور بنیادی سہولیات کی بندش مقامی آبادی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سمی دین بلوچ

1

بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری جبری بے دخلی کے عمل نے ہزاروں خاندانوں کو اپنے آبائی علاقوں، گھروں، زمینوں اور روزگار سے محروم کر دیا ہے۔ 2026 میں مستونگ سے گوادر تک، شور پارود، نوشکی، چاغی اور خاران سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری بے دخلی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں کہیں لوگوں کو علاقے خالی کرنے کے نوٹس دیے گئے اور کہیں گھروں اور آبادیوں کو مسمار کرکے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔

ان خیالات کا اظہار بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما اور جبری لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

سمی دین بلوچ نے کہا کہ زہری، مشکے اور زامران جیسے علاقوں میں مسلسل کرفیو اور سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی تک رسائی مہینوں تک متاثر رہی، جس سے مقامی آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا اور لوگوں کے لیے اپنے ہی علاقوں میں زندگی گزارنا دشوار بنا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آباد غریب خاندانوں کی پوری معیشت چند ایکڑ زمین، فصلوں اور مال مویشیوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ان خاندانوں کے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور دیگر ضروریات اسی محدود وسائل سے پوری ہوتی ہیں۔ ایسے خاندانوں کو اچانک اپنے آبائی علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرنا درحقیقت ان کی معاشی بنیادوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ جب یہ خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر کسی اجنبی علاقے میں منتقل ہوتے ہیں تو ان کے لیے روزگار، رہائش، بچوں کی تعلیم اور مال مویشیوں کی دیکھ بھال جیسے بنیادی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

سمی دین بلوچ نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں سکیورٹی کے مسائل درپیش ہیں اور وہاں کے لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے تو حکومت کی ذمہ داری محض علاقے خالی کرنے کے احکامات جاری کرنا نہیں، بلکہ متاثرہ آبادی کے تحفظ، متبادل رہائش، روزگار، بنیادی سہولیات اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانا بھی ہے۔ لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی نامعلوم مقام پر اپنی زندگی ازسرِنو تعمیر کر لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری طور پر بے دخل کیا جائے، ان کے گھر اور روزگار چھن جائیں اور ان کی واپسی غیر یقینی بنا دی جائے تو یہ محض نقل مکانی کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ لوگوں کو اپنی ہی سرزمین پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم کرنے کا عمل بن جاتا ہے۔

سمی دین بلوچ نے کہا کہ نسلوں سے کسی علاقے میں آباد خاندانوں کے لیے ان کی زمین محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان کی شناخت، روزگار، آبائی رشتوں، ثقافت اور پوری زندگی کی بنیاد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ جب کسی شخص یا خاندان کو جبری طور پر اپنے آبائی علاقے سے نکال کر کسی اجنبی شہر میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جہاں نہ تحفظ میسر ہو اور نہ ہی خاندان اور اپنے لوگوں کا سہارا، تو اس کی زندگی کس طرح اجڑ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کو اپنی ہی سرزمین پر اپنی زندگی اور مستقبل کے فیصلے کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سکیورٹی کے نام پر مقامی آبادی کو اپنی زمین، گھر، روزگار اور شناخت کی قربانی دینا پڑے تو ایسے اقدامات کو محض سکیورٹی کا معاملہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرکے نہ پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے، بلکہ ایسے اقدامات مقامی آبادی کی زندگیوں کو مزید غیر محفوظ اور غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔

سمی دین بلوچ نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری بے دخلی سے متاثرہ خاندانوں کے تحفظ، باعزت رہائش، روزگار، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ آبادیوں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے اور لوگوں کی رضاکارانہ، محفوظ اور باعزت واپسی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی آبادی کے بنیادی حقوق، انسانی وقار اور اپنی سرزمین پر آباد رہنے کے حق کا احترام کیے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔