گلزادی بلوچ کو عمر قید – ٹی بی پی اداریہ

1

گلزادی بلوچ کو عمر قید

ٹی بی پی اداریہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن گلزادی بلوچ کو کوئٹہ کی ایک عدالت کی جانب سے ایک متنازع و مشکوک قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد بلوچستان میں سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں ایک بار پھر عدالتی کارروائی، مقدمات کے طریقۂ کار اور سیاسی کارکنوں کے خلاف قانونی مقدمات کے استعمال پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناانصافی قرار دیا ہے، جبکہ گلزادی بلوچ کی قانونی ٹیم کا مؤقف ہے کہ انہیں جس مقدمے میں سزا سنائی گئی، اس میں وہ مرکزی ملزم نامزد نہیں تھیں اور دفاع کو اپنے قانونی حقوق استعمال کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا۔

دفاع کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آیا ہے کہ سزا سنانے سے قبل ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت گلزادی بلوچ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور وکلا کو حتمی دلائل پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ قانونی ٹیم کے مطابق جس وقت وہ عدالت پہنچی، جج وہاں موجود نہیں تھے اور عدالت کے ریڈر کی جانب سے انہیں تحریری حکم نامہ فراہم کیا گیا۔

گلزادی بلوچ 7 اپریل 2025 سے زیرِ حراست ہیں۔ انہیں ابتدا میں گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ رکھا گیا، تاہم بعد ازاں ان کی گرفتاری تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت ظاہر کی گئی۔ بعد میں ان کے خلاف درج مختلف مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی اور پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی مزید دفعات بھی شامل کی گئیں۔ تقریباً تین ماہ بعد انہیں پولیس ریمانڈ پر لیا گیا اور بعد ازاں عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ گلزادی بلوچ کو جس مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، اس مقدمے میں انہیں گرفتار ہی نہیں کیا گیا تھا۔

گلزادی بلوچ کے خلاف فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کئی رہنما اور کارکن طویل عرصے سے گرفتاریوں، مقدمات، حراست اور سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ 22 جون 2026 کو کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، اور صبغت اللہ بلوچ شاہ کو 25،25 سال قید کی سزا سنائی۔

بلوچستان میں ریاستی پالیسیوں میں پرامن سیاست کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ریاست کی شروع دن سے یہ پالیسی رہی ہے کہ بلوچستان میں اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کیا جائے۔ اسی پالیسی کے تحت ریاست نے بلوچستان میں لاپتہ افراد، جعلی مقابلوں اور دیگر جابرانہ ہتھکنڈوں کو اپنایا، اور آج بھی جو کوئی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے طاقت، گرفتاری اور نام نہاد عدالتی کارروائیوں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔