کوئٹہ میں ایک ہفتہ قبل شروع کی جانے والی پیپل ٹرین سروس حادثے کا شکار ہو کر کچلاک کے مقام پر پٹری سے اتر گئی۔
ذرائع کے مطابق اس عوامی سفری منصوبے پر تقریباً 5 ارب روپے کی بھاری لاگت آئی تھی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ افتتاح کے محض ایک ہفتے بعد ہی ٹرین کا پٹری سے اتر جانا انتظامی غفلت اور منصوبہ بندی پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عوام اور مقامی حلقوں نے اربوں روپے کے اس منصوبے کے ناقص انتظامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ریلوے حکام کا دعویٰ ہے کہ پٹری سے نٹ بولٹ چوری ہونے کے باعث حادثہ پیش آیا۔ تاہم، حادثے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیے جانے والے منصوبے مبینہ طور پر بے تحاشا کرپشن کے باعث دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ ٹرین کے افتتاح کے موقع پر کیے گئے حکومتی دعووں کے برعکس، ایک پرانے ڈبے کو رنگ و روغن کرکے اور انگریز دور کی پٹری کی مرمت کرکے اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔



















































