وندر: پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 28 سالہ ڈرائیور بلخ شیر جاں بحق

7

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق بلخ شیر ولد صدیق، سکنہ ضلع ڈیرہ بگٹی کو 11 اکتوبر 2026ء کو وندر میں کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گیا۔

بیان کے مطابق ایک بار پھر ایک بلوچ خاندان کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں۔ بلخ شیر کے اہلِ خانہ اس کی گھر واپسی کے منتظر تھے۔ انہیں امید تھی کہ وہ جلد واپس آئے گا، اس کی آواز سننے کو ملے گی اور وہ اسے اپنے درمیان دیکھ سکیں گے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ جس بیٹے کی راہ وہ تک رہے ہیں، وہ کبھی گھر واپس نہیں آئے گا۔
بلخ شیر کے بھی خواب تھے، ذمہ داریاں تھیں اور اس کے اپنے پیارے تھے، جو اس کی واپسی کے منتظر تھے۔ آج اس کے اہلِ خانہ کو اس کے بچھڑنے کا ناقابلِ تلافی دکھ سہنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آخر ایک شہری کو سڑک پر گولی مار کر کیوں قتل کیا گیا؟ بلخ شیر کا قصور کیا تھا؟ کیا بلوچ ہونے کی وجہ سے کسی انسانی جان کی قدر کم ہو جاتی ہے؟

بیان کے مطابق یہ واقعہ بلوچستان میں حقِ زندگی اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اس واقعے کی آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جائے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بلوچ شہریوں کی ہلاکتوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور بالاخ شیر کے لیے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔