سنگت ہارون بزدار گلزمین کے حوالے – چیدہ بزدار

38

سنگت ہارون بزدار گلزمین کے حوالے

تحریر: چیدہ بزدار

دی بلوچستان پوسٹ

ویران پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی پرانی جھونپڑی، اندر جلتا ہوا ننھا سا چراغ۔ سامنے پڑی کسی کی زنگ آلود ٹارچ، سالوں پرانا خشک مٹکا، آگ میں چٹختی لکڑیوں کی آواز۔ کالے رنگ کا چھوٹا سا چائے دان، کندھوں پر بلوچی شال۔ باہر سنسان اور ٹڈی کی آواز، خشک درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ اور سرد ہوا۔ چاند کی تنہائی، لاکھوں ستارے اور دور دور تک انسان ذات کا کوئی نام نہیں، کسی بھیڑیے کے رونے کی آواز۔ یہ سفر صرف سنگت ہارون کے نام۔

ایک پرانا سا قلم، ایک چھوٹی سی پرانی کاپی، جس کے کاغذ بارش کی وجہ سے کڑک ہو کر مڑ گئے تھے۔ دل بوجھل سا ہے، آنکھیں نم ہیں اور الفاظ جیسے احساسات کے بوجھ تلے خاموش ہو گئے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس عظیم ہستی کی قربانی کو کن لفظوں میں بیان کروں۔ کچھ شخصیات محض انسان نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک جذبہ، ایک نظریہ اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔

شہیدوں کی آواز خاموش ضرور ہوتی ہے، مگر ان کی قربانیاں ہزاروں صدیوں تک بولتی رہیں گی۔ تاریخیں قربانیوں سے لکھی جاتی ہیں۔ قربانیوں سے مراد خون کا ایک ایک قطرہ گلزمین کے لیے قربان کرنا ہے۔ کچھ قربانیاں تاریخ کے صفحات کے ساتھ ساتھ گلزمین کے چٹانوں پر نقش ہوتی ہیں، اور اپنے راج قوم کا ہر فرد، معصوم فرشتہ تک اس قربانی کی قدر کرتا ہے اور اسے شہیدوں کی امانت کے طور پر اس کی حفاظت کرتا ہے۔ کچھ شخصیات اس دنیا سے جسمانی طور پر رخصت ہو کر بھی اپنے پیچھے ایسی سوچ و فکر اور یادیں چھوڑ جاتے ہیں جن کے سامنے وقت بھی چھو کر خاموش ہو جاتا ہے۔ آج میں اُس عظیم شخصیت کا ذکر کرنے بیٹھا ہوں جس کی بہادری پر فخر تو کیا جا سکتا ہے، مگر شہادت پر فخر کرنا اور شہید کی جدائی سہنا، دو بالکل مختلف احساسات ہیں۔

شہید سنگت ہارون نے اپنی مبارک آنکھیں کوہ سلیمان میں کھولیں۔ وہ اس بلوچ سرزمین پر پیدا ہوئے جہاں قابض سامراج نے ہمیشہ مزاحمت کا سامنا کیا؛ وہ انگریز سامراج کی شکل میں ہو یا پاکستانی ملیشا کا کوہ سلیمان میں پٹوری جنگ، جس میں ان کو شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ شہید ہارون بچپن میں تعلیم کچھ وقت کوہ سلیمان میں حاصل کی، باقی تعلیم کے لیے تونسہ کا رخ کیا۔ سیاست کا افتتاح شہید غلام محمد، شہید واجہ منیر اور نواب بگٹی کی شہادت کے دورانیے سے ہوا۔ شہید نے تونسہ، کوہ سلیمان اور ڈی جی میں سیاسی نیشنلسٹ موبلائزیشن کر کے راج کو منظم کیا۔ شہید ثناء جب تونسہ آئے تو ہارون نے بھرپور ان کا ساتھ دیا۔ وہ ہمیشہ پارلیمانی سیاست سے اختلاف رکھتے تھے۔ پھر انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا۔ وہاں جاتے ہی انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھرپور حصہ لیا اور ان کی ایمانداری نے نوجوان طبقے میں ایک استادی مقام حاصل کیا۔ سنگت ان کو استاد یا پیار سے گڈا کے نام سے پکارتے تھے۔

گلزمین کے لیے بہ پناہ مخلص تھے۔ شہید نے حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ بلوچستان کے ہر کونے، مکران کے تقریباً ہر جگہ کی سیر کر کے وہاں کی ناانصافیوں کو دیکھتے رہے۔ قلات، مستونگ، شال، بولان، کراچی، کوئی بھی جگہ نہ چھوڑی۔ وہ ریاست کا بلوچ عوام کے ساتھ سلوک دیکھ کر بہ حد مایوس ہوئے۔ کوہ سلیمان سے مکران تک ریاست ایک ہی ناانصافی اور بدسلوکی کر رہی ہے۔ سنگت نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جدوجہد جاری رکھی اور ماس پولیٹکس شروع کر دی۔ گراؤنڈ پر بہ حد قربانیاں دیں۔ تعلیم یافتہ، گریجویٹ، طالب علم، تعلیم سے سرشار، دنیاوی فریبوں سے آزاد، مخلص ساتھی، قومی درد وار، پوری زندگی راج کے لیے وقف کرنے والا شہید سرمچار۔ شہید نے اسلام آباد، کشمیر، ناران، کاغان جیسی جگہیں دیکھ کر بھی کمفرٹ زون کا شکار نہ ہوئے، سرکاری نوکری تک ٹھکرا دی۔ بالآخر 2022 میں مسلح جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کو خوب دشمن کے خلاف استعمال کیا۔ دشمن کو لوہے کے چنے چبوائے۔ بالآخر 20 ستمبر 2026 کو شہادت کا اعلیٰ رتبہ حاصل کیا۔

آج کوہ سلیمان سے مکران تک آپ نے اپنا قومی فرض ادا کر کے سامراجی لیکروں کو مٹا کر دشمن کو شرمندہ کر دیا۔ کوہ سلیمان کی سرسبز چٹانیں آپ پر رقص کر رہی ہیں۔ پہاڑی چوٹیوں پر نیلے بادل برس کر آپ کے لیے نغمہ گار ہوں گے۔ بولان کی ندیاں نظمیں تیار کر رہی ہوں گی۔ سنگت ہارون بہ حد سادہ مزاج، مرید شخصیت تھے۔ شہید شداد اور شہید احسان کے قریبی سنگت تھے۔ فدائی رشید، سنگت ہارون، ان ہستیوں نے کچھ سیاسی وخت ساتھ گزارا۔ سنگت ہارون، شاہد در بی بی کے بہ حد قریبی سنگت تھے۔ شہید عاقل کے ساتھ بھی سیاسی سفر اور ان کے بہ حد قریبی سنگت رہے چکے تھے۔ شہید چراغ جیسی ہستیاں ان کے ساتھی تھیں۔ وہ بولان کے محاذ پر فدائی ظفر کے ساتھی رہے چکے تھے۔ استاد ہارون ایک لکھاری، ایک قلم کار، ایک سیاسی استاد، ایک سوچ تھے۔

ایک دن شہید نے کسی دوست کے ہاں پیغام بھیجا: ”چیدہ، میں فلاں جگہ تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ تو میں جلدی سے اٹھ کر منزل کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں قریب ہوتے ہی میں نے دیکھا استاد کمر دانی باندھے میرا انتظار کر رہا ہے۔ میں مسکراتا ہوا استاد کے گلے لگا۔ سنگت نے کہا: ”قربان، قربان۔“

میں نے کہا: ”استاد، آپ کی تلاش تھی، بھول گئے ہو ہمیں؟“

پھر سنگت ہنس کر بولنے لگے: ”ایسا ہو ہی نہیں سکتا، قربان۔“

پھر ہم نے بہت دیر تک گفتگو کی۔ سوال جواب دونوں طرف سے جاری رہا، مگر استاد کی نصیحتیں دل پر نقش کرتا گیا۔ استاد ہارون ہمیشہ کہتے: ”قربان، مخلص رہو، اپنا فرض ایمانداری سے نبھاؤ۔ لوگ ہم پر لاکھوں تنقید کرتے ہیں، لیکن وخت ان کو جواب دے گا۔“

میں نے کہا: ”استاد، بس سلامت رہو۔“

استاد نے کہا: ”قربان، بس سنگت سب سلامت رہے۔“

جب بات جنگ کی آئی تو سنگت ہارون نے کہا: ”بلوچ اب تک بہ رحم جنگ کر رہا ہے، ہم نے اب تک دشمن کا بہت لحاظ رکھا ہے۔“

میں نے کہا: ”استاد، کیسے؟“

سنگت نے کہا: ”ہمیں بے رحم جنگ کرنا ہے۔ اگر دشمن ہمارے بچوں، عورتوں کو شہید کر سکتا ہے تو میں پنجابی بچے پر رحم کیوں کروں؟“

سنگت نے صباء دشتیاری کی کچھ باتوں کی دلیلیں دیں۔ یوں سورج غروب ہوا، لیکن ہم خاموش نہ ہوئے۔ سنگت ہارون کی مخلصی دیکھ کر میرا دل موم ہو جاتا۔ سنگت استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص سنگت بھی تھے۔ جب بھی ہم رخصت ہوتے، بس کہتے: ”مخلص رہو، دنیا کی مت سنو، اپنا کام ایمانداری سے کرو۔ چیدہ، تم اچھا برا سب جانتے ہو، ٹیٹ رہو۔“

استاد کی وہ نصیحتیں، سمجھانا، ڈانٹنا، وہ سوچ شعور دینا، آج وہ جسمانی طور پر جدا ہو گئے، لیکن وہ سوچ شعور اور پختہ اور پاکیزہ کر گئے۔ یہ سوچ شعور استاد کی امانتیں ہیں۔ استاد، آپ اپنا حق ادا کر گئے۔ آپ کی شہادت کی خبر نے ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل دی۔ بہ بس ہو کر خود سے کہا: ”یار، استاد چوں اشتاپ کنگی نیاں؟“ بس مطمئن نہ ہو سکا۔

استاد، بشک لوٹاں پل میں آپ کے اعلیٰ کردار پر لکھنے کی ناکام کوشش کئی بار کر چکا ہوں، لیکن انصاف نہ کر سکا، نہ شاید کوئی اور کر سکے گا۔ آپ کی شہادت کے بعد اسی دن سے آپ کے ساتھ گزرے وخت اور واقعات پر کچھ لکھوں، گلزمین کی قسم، جب بھی آپ کے نام کچھ لکھتا، بار بار ڈیلیٹ کرتا رہا کہ کہیں یہ لفظ استاد ہارون کے کردار کے ساتھ ناانصافی نہ کر رہا ہوں۔ بہت سی یادیں آپ سے وابستہ ہیں۔ میں لکھنے میں ناکام ہوں، خیالات کوئی راستہ نہیں دے رہے، کردار پر لکھنے کو ترتیب دینے سے قاصر رہا ہوں۔ مجھے معاف کرنا استاد، واھگ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔