پاکستانی فورسز نے پنجگور میں آپریشن کے دوران پانچ مسلح افراد کو ہلاک کیا ہے ۔وزیر داخلہ محسن نقوی کی میڈیا کو بریفنگ
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں فورسز کی کارروائی کے دوران ایک مسلح تنظیم کے سرغنہ سمیت پانچ مسلح افراد کو مار دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے خلاف متحد ہیں اور کامیاب کارروائیاں کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ کل بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے چیدگی سے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جن میں سے تین کی شناخت پیر جان ولد کچکول ، شربت بلوچ اور حافظ مدثر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شعیب بلوچ کو 8 فروری 2023، جبکہ پیر جان کو رواں سال 10 جون کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جس کے بعد سے وہ منظرِ عام پر نہیں آ سکے تھے۔
جبکہ برآمد ہونے والی دیگر لاشوں کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی۔ علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچوں لاشیں ان افراد کی ہیں جو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ پاکستانی فورسز نے پہلے سے زیرِ حراست لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے بعد انہیں آپریشن یا جھڑپوں میں مارے جانے کا دعویٰ کیا ہو۔
حالیہ عرصے کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع سے متعدد لاشیں ملنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بعض کی شناخت پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے طور پر ہوئی ہے۔
ان واقعات پر مقامی و عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جبری طور پر لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرے اور انہیں منصفانہ ٹرائل کا موقع فراہم کرے۔


















































