بلوچ نسل کشی پر خاموشی، سازش یا لاعلمی؟
بیبرگ بلوچ
ہَدّہ جیل، کوئٹہ
13 اگست 2026
دی بلوچستان پوسٹ
سوراب، گدر میں عام آبادی پر پاکستانی جنگی طیاروں کی بمباری کو محض ایک حادثہ، غلطی یا معمول کی سکیورٹی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ واقعہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی پالیسی اور بڑھتے ہوئے تشدد کے ایک نہایت سنگین باب کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کے جنگی طیاروں کی جانب سے ضلع سوراب کے گاؤں پر کی گئی بمباری میں معصوم شہریوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اپنے ہی ملک کے شہریوں پر جنگی طیاروں سے اس نوعیت کی شدید بمباری محض ایک واقعہ نہیں؛ یہ اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر بلوچ آبادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی یہ مسلسل اور منظم صورت اختیار کیوں کر چکی ہے۔
نسل کشی کا لفظ سنتے ہی بہت سے لوگ فلسطین کی تاریخ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، لیکن 1948 کے نسل کشی کنونشن نے اس جرم کی ایک جامع قانونی تعریف متعین کی ہے، جس کا اطلاق کسی مخصوص ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ اس تعریف میں کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے قتل، شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا، ایسے حالات مسلط کرنا جو کسی گروہ کی جسمانی تباہی کا باعث بنیں، یا بچوں کو زبردستی کسی دوسرے گروہ میں منتقل کرنا شامل ہے۔ اس تعریف کا بنیادی اور فیصلہ کن عنصر نیت ہے، جو کسی ریاست کی پالیسی، اقدامات اور ان کے تسلسل سے بھی پرکھی جا سکتی ہے۔
بلوچستان کا المیہ اسی بنیادی سوال پر آ کر ٹھہرتا ہے۔برسوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی، سیاسی کارکنوں کو اٹھائے جانے، صحافیوں اور وکلا کو خاموش کرانے اور شہری آبادیوں پر طاقت کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ریاستی ادارے ان واقعات کو عموماً سکیورٹی کارروائیوں یا دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن جب ایک ہی قوم کے خلاف تشدد، جبری گمشدگی، خوف، اجتماعی سزا اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات مسلسل اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیں تو ان کا مجموعی جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
سوراب، گدر کی حالیہ بمباری نے اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں گھروں پر بم برسائے گئے، لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، بچے اپنی ماؤں کی آغوش میں تھے۔ اگر ریاست کا دعویٰ کسی مسلح گروہ کے خلاف کارروائی کا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا گیا؟ کسی پورے گاؤں یا آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ اور جنگی قوانین کی پاسداری سے متعلق سنگین سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
کوئی بھی بلوچ اس درد کو فراموش نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرنا چاہیے۔ گدر کی وہ رات، ان بچوں کی چیخیں، ماؤں کا درد اور ملبے میں تبدیل ہونے والے گھر بلوچ اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس واقعے کو محض ایک خبر بن کر گزر جانے نہیں دینا چاہیے۔ اسے محفوظ کرنا، اس کے حقائق دنیا کے سامنے رکھنا اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ضروری ہے۔جس قوم کی یادداشت زندہ رہتی ہے، اسے تاریخ سے مٹانا آسان نہیں ہوتا۔ گدر بھی اسی اجتماعی یادداشت کا حصہ رہے گا—ایک ایسی یاد جو ہر بلوچ کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرے گی کہ شہریوں کے خون کی قیمت آخر کب تک خاموشی میں ادا کی جاتی رہے گی؟
یہ المیہ کسی قدرتی آفت کی طرح آسمان سے نہیں اترا۔ اس کے ذمہ داروں، فیصلوں اور احکامات کا تعین ہونا چاہیے۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے ایسے واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ خاموشی، دوہرے معیار اور محض سفارتی مفادات پر مبنی رویے اس المیے کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ اگر دنیا واقعی نسل کشی کی روک تھام کے اصول پر یقین رکھتی ہے تو اس اصول کا اطلاق جغرافیہ، مفاد اور طاقت کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونا چاہیے۔بمباری کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات نے بھی کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے واقعات میں متضاد سرکاری بیانیوں کے بجائے شفاف تحقیقات، حقائق کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کو جواب دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ محض بیانیہ سازی شاید طاقت کے ایوانوں کو مطمئن کر دے، لیکن بلوچ عوام کے سامنے ریاست کی اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو مزید کمزور کرتی ہے۔
سوراب، گدر کو خاموشی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں بہنے والا خون صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک سوال ہے—اور یہ سوال صرف بلوچ قوم سے نہیں، پوری دنیا سے ہے:بلوچ نسل کشی پر خاموشی آخر لاعلمی ہے، سازش ہے یا دانستہ چشم پوشی؟











































