مستونگ: فوجی آپریشن، توپ خانے کا استعمال، شدید نوعیت کی مسلح جھڑپیں

79
اے آئی ڈیزائن

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کے حملے کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، جبکہ بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری ہے، جہاں توپ خانے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

کھڈکوچہ میں گزشتہ روز پاکستان فوج کی بڑی تعداد نے زمینی و فضائی آپریشن کا آغاز کیا، جس میں سینکڑوں اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اس دوران بھاری توپ خانے کا بھی استعمال کیا گیا۔

ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ آپریشن میں مصروف اہلکاروں کو مسلح افراد نے مختلف مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا۔ علاقے میں گھنٹوں تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس دوران فوج کی ایک بکتر بند گاڑی سمیت ایک ٹریکٹر دھماکوں میں تباہ ہو گئے، جبکہ بڑے پیمانے پر اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے گزشتہ روز ایک بیان میں مستونگ اور سوراب میں آپریشن کے دوران دس مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید برآں، گزشتہ شب مذکورہ علاقے میں فوج کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے کرفیو لگانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آج (بدھ) کی شب سے تا حکمِ ثانی کرفیو نافذ رہے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچ لبریشن آرمی نے کھڈکوچہ میں پاکستان فوج کی اٹھارہ بسوں اور ان کے سیکیورٹی قافلے کو شدید نوعیت کے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔ بی ایل اے کے فتح اسکواڈ کے ان حملوں میں ساٹھ سے زائد پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔