بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ تنظیم کے رہنماؤں کے خلاف جج مبین کا جارہانہ رویے اور فیس لیس ٹرائل کے خلاف تنظیم کے وکلاء ٹیم نے آئینی درخواست جمع کرائی تھی ، جس میں کیس کو فوری روکنے، جج محمد علی مبین کی تبدیلی اور مقدمے کو اوپن کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ آئینی درخواست 20 جون 2026 کو دائر کی گئی۔ ہفتہ کے روز ڈویژنل بینچ کی عدم دستیابی کے باعث یہ درخواست پیر، 22 جون 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہونا تھا۔
انہوں نے کہاکہ جب آئینی درخواست کی فائل اور فوری سماعت کی درخواست 22 جون 2026 کی کاز لسٹ میں مقرر کرنے کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش کی گئی، تو چیف جسٹس نے اسے ابتدائی سماعت (کچا پیشی) کے لیے مقرر کرنے کے بجائے، فوری سماعت کی درخواست عجلت میں یہ نوٹ لکھ کر مسترد کر دی کہ “سماعت میں کوئی ہنگامی ضرورت نہیں”، اور درخواست کو 29 جون 2026 کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔
ترجمان نے کہاکہ بعد ازاں، چیف جسٹس کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست مسترد کیے جانے کے صرف 30 منٹ کے اندر، انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کوئٹہ نے اپنا فیصلہ سنا دیا، جس کے بعد کاز لسٹ بھی اپ لوڈ کر دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ جون 29 کو جب دفاعی وکلاء آئینی درخواست کی سماعت کے لیے ہائی کورٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ درخواست کو کاز لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اس کی سماعت دو ماہ بعد کے لیے تاریخ دی گئی ہے
فیس لیس ٹرائیل، جج کے جانبدارنہ رویے اور بغیر ملزمان کے جج کے کیسسز کو آگے بڑھانے کے روئیے کے خلاف بی وائی سی کے رہنماؤں نے آئینی درخواست جمع کراکر قانونی راستہ اختیار کیا، مگر درخواست پر فوری فیصلہ کرنے کے بجائے اسے طویل عرصے کے لیے مؤخر کر دینا انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔
بی وائی سی نے کہاکہ اس تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ دو ماہ تک یہی متنازع جج بی وائی سی رہنماؤں کے دیگر مقدمات کی سماعت فیس لیس ٹرائل کے زریعے چلاتے رہیں گے، جبکہ ان کی غیر جانبداری خود عدالت میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے بجائے ایک مخصوص نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پورا عدالتی نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید کہاکہ جب ایک جانب جج کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہوں، دوسری جانب اسی جج کو مقدمات سننے کی مکمل آزادی دی جا رہی ہو، یہ تمام اقدامات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ ریاستی ادارے اور عدالتی ڈھانچہ مل کر بی وائی سی کی قیادت کو ہر قیمت پر سزائیں دلوانے اور سیاسی طور پر خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ بلوچستان میں سیاسی مزاحمت، انسانی حقوق کی جدوجہد اور عوامی نمائندہ آوازوں کے خلاف جاری ایک وسیع ریاستی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ یہ پورا عمل انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ جبر کو قانونی لبادہ پہنانے اور اختلافی سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
آخر میں کہاکہ بی وائی سی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیاں ریاست کی جمہوری قوتوں سے خوف کی عکاس ہیں، خوف اس حقیقت سے کہ بلوچستان کے عوام آج بی وائی سی کے نظم کے تلے پہلے سے زیادہ باشعور، منظم اور اپنے حقوق کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس عدالتی جبر کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی تمام مزاحمتی میدانوں میں جدوجہد جاری رکھے گی اور بلوچستان میں قانون کے نام پر ہونے والی لاقانونیت کا پردہ پاش کرتی رہے گی۔ ہم انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی دنیا سے بلوچستان کی طرف توجہ کو ناگزیر سمجھتے ہے شفافیت اور احتساب کے لیے دنیا کو اس جبر پر سوال اٹھانا لازمی ہے۔



















































