شہید انور بلسم زہری — کچھ شخصیات الفاظ سے نہیں، احساس سے لکھی جاتی ہیں
تحریر: گودی پری بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کبھی کبھی انسان قلم تو اٹھا لیتا ہے، مگر الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں لکھنے کے لیے صرف زبان یا قلم کافی نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا دل چاہیے جو ان کے کردار کو محسوس کر سکے۔ جب بھی میں شہید انور بلسم زہری کے بارے میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو یہی احساس میرے وجود پر طاری ہو جاتا ہے کہ شاید میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جو ان کی شخصیت کا حق ادا کر سکیں۔ میں جتنا بھی لکھوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کردار کی وسعت، ان کے اخلاص کی گہرائی اور ان کی عاجزی کی بلندی میری تحریر سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کا لباس، اس کی شہرت یا اس کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔ کردار وہ آئینہ ہے جو انسان کے باطن کو دنیا کے سامنے لے آتا ہے۔ اور اگر کردار میں اخلاص، سچائی، عاجزی اور وفاداری جمع ہو جائیں تو پھر وہ شخصیت عام انسانوں سے بلند ہو جاتی ہے۔ شہید انور بلسم زہری بھی انہی نایاب شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو اپنے اصولوں اور اپنے مقصد کے ساتھ جوڑ کر جیا۔
آپ کے بارے میں جو کچھ بھی سننے کو ملا، اس سے یہی معلوم ہوا کہ آپ وطن کے ایک مخلص سپاہی، ایک حساس شاعر اور ایک عظیم سرمچار تھے۔ لیکن ان تمام پہچانوں سے بڑھ کر جو چیز مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ آپ کی عاجزی ہے۔ یہ بہت آسان ہے کہ انسان طاقت یا شہرت پا کر خود کو دوسروں سے برتر سمجھے، مگر یہ بہت مشکل ہے کہ وہ ہر حال میں عاجزی اور انکساری کو اپنا زیور بنائے رکھے۔ عظمت ہمیشہ عاجزی کے دامن میں پروان چڑھتی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے لوگ اپنے اخلاق سے پہچانے جاتے ہیں، نہ کہ اپنے تعارف سے۔
شاعری صرف الفاظ کو جوڑنے کا نام نہیں۔ شاعر وہ ہوتا ہے جو اپنے دل کی دھڑکنوں کو لفظوں میں ڈھال دے، جو دوسروں کے درد کو اپنا درد بنا لے، اور جو خاموش دلوں کی آواز بن جائے۔ میں سمجھتی ہوں کہ شہید انور بلسم زہری کی شاعری بھی اسی احساس کا نام تھی۔ ان کے لفظ صرف پڑھے نہیں جاتے تھے، بلکہ محسوس کیے جاتے تھے۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، درد بھی، امید بھی اور اپنی دھرتی سے وابستگی بھی۔
مجھے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ عظیم انسان اپنی آواز سے نہیں، اپنے کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں کم بولتے ہیں، مگر ان کے اعمال ان کی پوری زندگی کی گواہی دیتے ہیں۔ شہید انور بلسم زہری بھی شاید انہی لوگوں میں سے تھے۔ وہ جن راستوں پر چلے، ان راستوں کی دھول بھی ان کی سادگی اور اخلاص کی گواہی دیتی ہے۔
آج جب میں ان کے بارے میں لکھ رہی ہوں تو میرا مقصد صرف ایک شخصیت کا ذکر کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے جس نے عاجزی، وفا، استقامت اور احساس کی مثال قائم کی۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں وقت کی گرد میں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں، ان کی باتوں میں زندہ رہتے ہیں، اور ان کی دعاؤں میں زندہ رہتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































