بلوچ اور پشتون دہائیوں سے نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بی وائی سی

12

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہےکہ زیارت میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے ریاست کی جبر پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ریاستی طاقت کے استعمال نے عام شہریوں کی زندگیوں کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بلوچ عوام طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی آوازوں کو دبانے جیسے اقدامات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی جبر پر مبنی پالیسیوں، عدم تحفظ، نقل مکانی اور مسلسل بدامنی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ یہ تمام حالات ریاست کے جبر اور ظلم پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں اور بلوچ و پشتون اقوام کے خلاف نسل کش پالیسی کا حصہ بھی ہیں۔ یہ واقعہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے کہاکہ زیارت سانحے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، مگر متاثرہ خاندان آج بھی اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان خاندانوں کا بنیادی مطالبہ انصاف، شفاف تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی آواز سنے، ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور مسائل کو طاقت، خاموشی یا نظرانداز کرنے کے بجائے انصاف اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرے۔

مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچ اور پشتون عوام کا دکھ مشترک ہے؛ دونوں اقوام دہائیوں سے قتلِ عام اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے احترام، عوام کی سیاسی آواز کو تسلیم کرنے اور مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جب تک عوام کے بنیادی حقوق، جان و مال کے تحفظ اور سیاسی شرکت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی زیارت سانحے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور ان کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ ہم تمام سیاسی و سماجی قوتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور بلوچستان میں انسانی حقوق اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔

آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ہر اُس آواز کے ساتھ کھڑی ہے جو انسانی وقار، انصاف، امن اور ایک ایسے مستقبل کے لیے بلند کی جاتی ہے جہاں کسی بھی انسان کو تشدد، خوف اور ناانصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔