کوئٹہ: فیس لیس ٹرائلز کے خلاف وکلاء کا احتجاج، عدالتی شفافیت اور آئینی تقاضوں کے مطابق کارروائی کا مطالبہ

23

بلوچستان کے وکلاء نے آج سیشن کورٹ کوئٹہ، کچہری کوئٹہ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کوئٹہ کے سامنے فیس لیس اور غیر شفاف ٹرائلز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وکلاء نے واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف جاری کارروائیاں انصاف، آئین اور فئیر ٹرائل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

احتجاج کے دوران وکلاء نے جج صاحبان کے سامنے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیس لیس ٹرائلز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں کو ان کے قانونی حقوق سے محروم کرنا انصاف کے نظام کو کمزور کرنے اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

وکلاء نے مطالبہ کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائل کے تمام نوٹیفکیشنز فوری طور پر واپس لیے جائیں اور عدالتی کارروائی کو شفاف، عوامی اور آئینی تقاضوں کے مطابق چلایا جائے۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ صرف چند سیاسی قیدیوں کے مقدمات کا معاملہ نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام، شہری آزادیوں اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔ اگر آج انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کرنے پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل ہر شہری اس لاقانونیت کی زد میں ہوگا۔

وکلاء برادری نے اس اقدام کو ایک سنجیدہ آئینی و قانونی بحران قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فیس لیس اور غیر منصفانہ ٹرائلز کے تمام اقدامات فوری طور پر واپس لیے جائیں اور عدالتی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

مزید کہا گیا کہ بلوچستان اور پاکستان بھر کی وکلاء برادری کو اس جدوجہد کا حصہ بننا چاہیے تاکہ انصاف، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے