ڈاکٹر صبیحہ بلوچ: جبر کے عہد میں مزاحمت، قیادت اور امید کی علامت
تحریر: شاہ میر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب جبر صرف سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ پورے سماج کے اجتماعی شعور، نفسیات اور مستقبل کے امکانات کو اپنے شکنجے میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی طاقت صرف جسموں کو قید نہیں کرتی بلکہ امید کو شکست دینے، مزاحمت کو تنہا کرنے اور عوام کو سیاسی بے یقینی میں دھکیلنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ مگر تاریخ کا ایک مستقل اصول یہ بھی ہے کہ جب جبر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسی تاریکی میں کچھ کردار امید، استقامت اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔ وہ محض افراد نہیں رہتے بلکہ اپنے عہد کی اجتماعی خواہشات اور سیاسی شعور کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔
بلوچ قومی تحریک کے موجودہ مرحلے میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کردار اسی تناظر میں اپنی اہمیت حاصل کرتا ہے۔ ان کی جدوجہد کو محض ایک فرد کی سرگرمی یا تنظیمی ذمہ داری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ ایک ایسے دور میں سامنے آئی ہیں جب بلوچ قومی تحریک گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، قتل عام، سیاسی پابندیوں اور ریاستی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ان کا کردار ایک سیاسی استعارے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جو مزاحمت، حوصلے اور اجتماعی وابستگی کی نمائندگی کرتا ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ان کی شخصیت سے زیادہ اس سیاسی ماحول کو سمجھنا ضروری ہے جس میں ان کی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔ ہر تحریک اپنے تاریخی حالات کے اندر اپنے کردار پیدا کرتی ہے۔ قیادتیں خلا میں جنم نہیں لیتیں بلکہ سیاسی بحرانوں، سماجی بے چینی اور عوامی مزاحمت کے بطن سے ابھرتی ہیں۔ بلوچ قومی تحریک بھی کئی دہائیوں سے مختلف نشیب و فراز سے گزر رہی ہے، اور اسی تاریخی تسلسل میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی سیاسی تشکیل ہوئی۔
ان کا نمایاں وصف یہ ہے کہ انہوں نے سیاست کو محض جذباتی وابستگی یا وقتی ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکری اور سماجی عمل کے طور پر اختیار کیا۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو مسائل کو ان کے وسیع سیاسی اور سماجی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو اور سیاسی مؤقف میں جذبات کے ساتھ دلیل، تجزیہ اور فکری گہرائی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ سیاست کو محض احتجاج تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اسے شعور کی تعمیر اور سماجی تبدیلی کے عمل سے جوڑتی ہیں۔
ان کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو تنظیمی صلاحیت ہے۔ اکثر تحریکوں میں نظریاتی وابستگی رکھنے والے افراد موجود ہوتے ہیں، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو سیاسی نظریے، تنظیمی نظم اور عوامی رابطے کے درمیان توازن پیدا کر سکیں۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے نہ صرف عوامی سطح پر سیاسی رابطے کو اہمیت دی بلکہ تنظیمی استحکام اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ شخصیت پرستی کے بجائے اجتماعی شعور اور اجتماعی قیادت پر زور دیتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کو محض پیروکار بنانے کے بجائے انہیں سیاسی طور پر باشعور، ذمہ دار اور فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
یہی وہ خصوصیت ہے جو ان کے کردار کو محض ایک سیاسی کارکن یا تنظیمی رہنما کے کردار سے آگے لے جاتی ہے۔ اطالوی مفکر انٹونیو گرامشی نے “نامیاتی دانشور” کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقی دانشور وہ ہوتا ہے جو اپنے سماج کے اندر رہتے ہوئے عوامی شعور کی تشکیل میں کردار ادا کرے۔ اسی طرح فرانز فینن کے مطابق محکوم اقوام کی آزادی صرف سیاسی اقتدار کی منتقلی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے شعور کی بازیابی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی سیاست صرف سیاسی مطالبات یا احتجاج تک محدود نہیں بلکہ عوام کے اندر خود اعتمادی، اجتماعی شعور اور سیاسی شرکت کے احساس کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی ہے۔
سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں امید ایک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ امید محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک سیاسی قوت ہے جو تحریکوں کو شکستوں کے بعد دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ دیتی ہے اور جبر کے ادوار میں اجتماعی اعتماد کو زندہ رکھتی ہے۔ نوآبادیاتی اور محکوم معاشروں میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایسے معاشروں میں جبر کا مقصد صرف سیاسی مزاحمت کو محدود کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو یہ باور کرانا بھی ہوتا ہے کہ تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی لیے محکوم اقوام کی ہر جدوجہد بنیادی طور پر امید اور شعور کو زندہ رکھنے کی جدوجہد بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کردار اسی زاویے سے خصوصی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں خوف کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو، ان کی مسلسل سیاسی موجودگی اور فعالیت بذاتِ خود امید اور استقامت کے ایک اظہار کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی سیاست نئی نسل کی فکری اور سیاسی تربیت سے بھی جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ نوجوانوں کو محض جذباتی وابستگی تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں سیاسی فہم، سماجی شعور اور تنظیمی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جو کسی بھی تحریک کو وقتی ردِعمل سے نکال کر ایک پائیدار سیاسی قوت میں تبدیل کرتا ہے۔
مزاحمتی تحریکوں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قیادت کا اصل امتحان مشکل حالات میں ہوتا ہے۔ سازگار ماحول میں رہنمائی نسبتاً آسان ہوتی ہے، لیکن گرفتاری، نگرانی، تنہائی اور مسلسل خطرات کے باوجود سیاسی عمل کو جاری رکھنا حقیقی استقامت کا مظہر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کا کردار اسی تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ ان کی سیاسی فعالیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان کے لیے جدوجہد محض ایک وقتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی وابستگی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی سیاسی شخصیت کا جائزہ عقیدت کے بجائے تاریخ اور سیاست کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کی اصل اہمیت ان کے گرد قائم ہونے والی شخصی روایت میں نہیں بلکہ اس سیاسی کردار میں ہے جو وہ ادا کر رہی ہیں۔ ان کی جدوجہد کو بلوچ قومی تحریک کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے؛ ایک ایسی جدوجہد کے طور پر جس میں سیاسی شعور، تنظیمی استحکام، عوامی رابطہ اور مزاحمت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچ قومی تحریک نئے چیلنجوں، نئی بحثوں اور نئی قیادتوں کا سامنا کرے، لیکن تاریخ میں کچھ کردار اپنی استقامت، فکری وابستگی اور عوامی وابستگی کی وجہ سے ایک مستقل حوالہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ بھی انہی کرداروں میں شامل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ شاید اسی لیے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کو محض ایک فرد یا تنظیمی رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی استعارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو جبر کے عہد میں امید، شعور اور استقامت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور شاید یہی کسی بھی سیاسی کارکن یا رہنما کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کی تاریکی میں لوگوں کے لیے حوصلے، شعور اور امید کی علامت بنے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































