دالبندین میں ایک شہری قتل، پنجگور میں جبری لاپتہ نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد۔ بی وائی سی

21

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ایک شہری کے قتل اور ضلع پنجگور میں جبری گمشدگی کے بعد ایک نوجوان کی مسخ شدہ لاش کی برآمدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گل بدین نوتیزئی ولد سفر خان نوتیزئی، عمر 33 سال، ساکن ظہور کالونی دالبندین، ضلع چاغی، کو 17 جون 2026 کی شام تقریباً 6:30 بجے دالبندین میں سڑک پر پاکستانی فورسز اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد ان کی لاش کو جائے وقوعہ سے اٹھا کر بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ گل بدین نوتیزئی کی ہلاکت بلوچستان میں پیش آنے والے ان متعدد واقعات کا حصہ ہے جو خطے میں شہریوں کے تحفظ، سلامتی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

دوسری جانب پنجگور کے علاقے پروم کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور، 22 سالہ مجاہد ولد حبیب، کو 7 جون 2026 کی شب سرسند، پنجگور میں سی پیک روڈ کے علاقے سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ ان کی گمشدگی کے بعد اہل خانہ کئی روز تک ان کی خیریت اور مقام سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔

چند روز بعد پنجگور کے علاقے ایک گولیوں سے چھلنی اور مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت مجاہد کے طور پر کی گئی۔ نوجوان مجاہد کی اس المناک حالت میں لاش کی برآمدگی نے اہل خانہ اور مقامی آبادی کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف ایک خاندان کا ذاتی المیہ ہے بلکہ بلوچستان کے ان بے شمار خاندانوں کے درد کی عکاسی بھی کرتا ہے جو اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون قتل کے واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات پورے بلوچستان میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنان طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، تاہم بلوچستان کے معاملے میں ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

تنظیم نے کہا کہ بلوچستان میں طلبہ، اساتذہ، مزدور، ڈرائیور، محنت کش اور عام شہری مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہ اور سیکیورٹی فورسز انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گل بدین نوتیزئی کے قتل اور مجاہد کی جبری گمشدگی کے بعد ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں واقعات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔

تنظیم نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔