جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کے احتجاج کا 6197 واں روز، راشد حسین بلوچ کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ کی شرکت

1

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ تنظیم کے رہنما نیاز محمد کی سربراہی میں 6197ویں روز بھی جاری رہا۔

آج راشد حسین بلوچ کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے جبری گمشدگیوں، لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل اور راشد حسین بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ ان کے ماموں راشد حسین بلوچ کو 2018 میں عرب امارات سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اور بعد ازاں پاکستان منتقلی کے حوالے سے ملکی اداروں کی جانب سے پاکستانی میڈیا میں خبریں بھی نشر کی گئی تھیں، تاہم آج تک انہیں کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی اہل خانہ کو ان کی خیریت یا قانونی حیثیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راشد حسین بلوچ کے کیس میں انصاف کے حصول کے لیے ان کے خاندان نے ملکی قوانین کے تحت مختلف حکومتوں، متعلقہ اداروں اور انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار فورمز سے مسلسل رجوع کیا ہے اور پرامن احتجاج کا راستہ بھی اختیار کیا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب تک کسی بھی ادارے نے انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق انصاف فراہم نہیں کیا۔

ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ ان کے خاندان کا مطالبہ آئینی اور قانونی ہے کہ اگر راشد حسین بلوچ پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہو، اور اگر وہ بے قصور ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کے ماورائے عدالت قتل کے سلسلے کا فوری خاتمہ کیا جائے اور راشد حسین بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔