حامد عرف واحد، ایک انقلابی سنگت کی یادیں
تحریر: گنجل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
حامد میرا یار، میرا سنگت تھا۔ مجھے آپ کے ساتھ گزارا گیا ہر لمحہ آج بھی یاد ہے۔ آپ ایک انتہائی ایماندار، مخلص اور سچے ساتھی تھے۔ آپ کی ایمانداری آپ کے کردار، عمل اور عام زندگی میں بھی جھلکتی تھی۔ ان کی ایمانداری اور مخلصی آخر دم تک ان کے ساتھ رہی، اور وہ شہادت تک اسی طرح ایک زندہ دل انسان تھے۔وہ اپنے سوچ اور عمل سے نہ جھکنے والے انسان تھے اور نہ ہی اپنا سر نیچا کرنے والے، بلکہ ایک بہادر اور مخلص سنگت تھے۔
شہید حامد عرف واحد سے میری ملاقات ایک تنظیمی وتاک میں ہوئی تھی۔ ہم تقریباً دو ماہ تک ایک ساتھ رہے۔ یہ دو ماہ میرے لیے بہت عزیز تھے، کیونکہ ان دو مہینوں میں مجھے حامد کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے اور وقت گزارنے کا موقع ملا۔ میں اپنی زندگی میں ان دو مہینوں کو کبھی نہیں بھولوں گا، کیونکہ ان دو مہینوں میں مجھے ایک مہربان سنگت کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا، جن کی یادیں ہمیشہ زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گی۔
وہ ساتھیوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے اور انہیں ہمیشہ ہنسی مذاق میں تنگ بھی کرتے تھے۔ انہیں دوستوں کو چھیڑنے اور ستانے میں بہت مزہ آتا تھا۔ وہ ہر سنگت سے محبت کرتے تھے۔ اسی لیے ساتھی بھی ان کی وجہ سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ بھی ان کے ساتھ کھیلتے اور مذاق کرتے تھے۔ انہوں نے وتاک کا ماحول نہایت خوبصورت بنا دیا تھا، اور مجھے انہیں دیکھ کر انتہائی سکون ملتا تھا، کیونکہ وہ دوستوں سے حقیقی محبت کرتے تھے اور انہیں خوش رکھنا چاہتے تھے۔ ساتھی انہیں کیمپ میں پیار سے “پیرول” کہتے تھے، اور اسی نام سے انہیں پکارا جاتا تھا
میرے ساتھ واحد بہت نزدیک ہو چکا تھا۔ ہم ایک دوسرے کے بہت قریبی سنگت بن گئے تھے۔ کم وقت میں ہی ہم ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے تھے اور ہمارے درمیان ایک مضبوط سنگتی رشتہ قائم ہو گیا تھا۔ وہ دوستوں کے سامنے مجھے کافی تنگ کرتا تھا اور میں بھی اسے تنگ کرتا تھا اور مختلف ناموں سے پکار لیتا تھا۔ ہم جتنا ایک دوسرے کو تنگ کرتے اور ایک دوسرے پر باتیں بناتے، اتنا ہی ایک دوسرے کے قریب محسوس کرتے تھے اور ایک لمحے کے لیے بھی اجنبیت محسوس نہیں کرتے تھے۔ جب بھی وہ مجھ سے دور چلا جاتا یا میرے پاس نہیں ہوتا تو مجھے ایک عجیب سی بے چینی اور اس کی غیر موجودگی محسوس ہوتی تھی۔
واحد صرف میرا سنگت ہی نہیں بلکہ میرا استاد بھی تھا۔ وقتی مذاق اور چھیڑ چھاڑ کے علاوہ، جب بھی ہم دیر تک بیٹھتے تو وہ مجھے بہت سی چیزوں کے بارے میں آگاہی دیتا تھا۔ وہ مجھے سمجھاتا اور میرے علم میں اضافہ کرتا تھا۔ تنظیمی سرگرمیوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے بھی وہ میری رہنمائی کرتا تھا۔ وہ مجھے بتاتا تھا کہ تنظیم میں کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور انقلابی رویہ کیا ہوتا ہے۔ میں اسے انتہائی غور سے سنتا تھا، کیونکہ میں تنظیم میں نیا نیا آیا تھا، اس لیے مجھے بہت سی چیزوں کے بارے میں علم نہیں تھا۔ حامد کی وجہ سے مجھے تنظیم، ساتھیوں اور مختلف رویّوں کے حوالے سے بہت زیادہ آگاہی حاصل ہوئی۔
وہ مجھے ہمیشہ کہتے تھے: یار، ہمیں نیم انقلابی نہیں بلکہ مکمل انقلابی انسان اور جہدکار بن کر جدوجہد میں کام کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مکمل انقلابی انسان اور جہدکار وہ ہوتا ہے جو ہر حال میں تنظیم اور جدوجہد کے ساتھ کھڑا رہے۔ ایسا نہ ہو کہ جب تنظیم مضبوط ہو تو وہ اس کے ساتھ رہے، لیکن جب تنظیم یا تحریک کے اندر کوئی کمزوری پیدا ہو جائے تو وہ کنارہ کش ہو جائے۔ سخت حالات میں تنظیم سے دوری اختیار کرنے والے لوگ نیم انقلابی ہوتے ہیں، جبکہ ہر حال میں تنظیم اور جدوجہد کا ساتھ دینے والے سنگت مکمل انقلابی ہوتے ہیں۔ یہی ایک نیم انقلابی اور ایک مکمل انقلابی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔
وہ مجھے ہمیشہ 2015ء اور 2016ء کے حالات کے بارے میں بتاتے تھے کہ کنارہ کشی اختیار کرنے یا جدوجہد کو چھوڑنے کے بجائے کس طرح حقیقی اور انقلابی جہدکاروں نے استاد اسلم جیسے رہنماؤں کیساتھ نئے سرے سے جدوجہد کو منظم کرنے پر کام کیا، جبکہ نیم انقلابی جہدکاروں نے حالات کی سختی دیکھ کر اپنی راہیں جدا کر لیں، کیونکہ وہ کمزور تھے۔ وہ حقیقی جہدکار اور انقلابی سنگت نہیں تھے۔ اگر وہ واقعی انقلابی ہوتے تو کسی بھی صورت جدوجہد سے الگ نہ ہوتے، بلکہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے۔
میں آپ کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ آپ کے دیے ہوئے اسباق میرے ذہن میں ہمیشہ نقش رہیں گے، اور میں کوشش کروں گا کہ انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں اور اس جدوجہد میں کبھی بھی کمزوری نہ دکھاؤں۔ آپ نے آپریشن ہیروف دوم میں دشمن کے حصار تک پہنچ کر جو جنگ لڑی اور خود کو وطن پر قربان کر دیا، مجھے یقین ہے کہ یہ قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































