ترقی پسند حکمت عملی و رہنمائی کمانڈر شہناز
تحریر: شاہ میر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
رہنما کیا ہوتا ہے؟ کیوں ہجوم میں سے ایک شخص نکل کر رہنما کہلاتا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ کب، کہاں اور کیسے وجود میں آتا ہے؟ اور جب وہ وجود میں آتا ہے تو اس کے بعد کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت ذہن میں جنم لیتے ہیں جب کوئی فرد ہجوم میں سے نکل کر نہ صرف صحیح راستے کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ پوری قوم یا تحریک کو ایک واضح منزل کی جانب گامزن بھی کرتا ہے۔ رہنما محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ شعور، بصیرت اور عمل کا ایسا امتزاج ہوتا ہے جو منتشر قوتوں کو ایک سمت عطا کرتا ہے۔
رہنما لفظ دو الفاظ “رہ” اور “نما” سے مل کر بنا ہے۔ “رہ” کے معنی راستہ اور “نما” کے معنی دکھانے والے کے ہیں۔ اس طرح رہنما کا لفظی مطلب “راستہ دکھانے والا” بنتا ہے۔ لیکن فکری اور سماجی معنوں میں رہنما صرف راستہ دکھانے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسا شعور ہوتا ہے جو منتشر سوچوں، خواہشات اور قوتوں کو ایک مشترکہ مقصد کی طرف منظم کرتا ہے
تاریخ میں ہر بڑی سماجی، سیاسی اور قومی تبدیلی کے پیچھے ایسے رہنما موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے مسائل کو سمجھا، ان کی تشریح کی اور لوگوں کو ایک منزل کی طرف متوجہ کیا۔ اسی لیے رہنما کسی عہد کا حادثاتی کردار نہیں ہوتا بلکہ اپنے سماج کے حالات، ضروریات اور اجتماعی خواہشات سے جنم لینے والا ایک تاریخی عمل ہوتا ہے
فلسفی افلاطون کا خیال تھا کہ معاشرے کی رہنمائی وہی شخص کرسکتا ہے جو علم، حکمت اور حقیقت کی پہچان رکھتا ہو۔ اسی طرح جرمن فلسفی فریڈرک نطشے نے “فوق الانسان” کا تصور پیش کرتے ہوئے ایسے فرد کی بات کی جو مروجہ جمود کو توڑ کر نئے راستے متعین کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر قومی تحریک میں ایسے کردار پیدا ہوتے ہیں جو روایت کے دائرے سے نکل کر نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔
ایسی ہی ایک رہنما کمانڈر شہناز کی صورت میں سامنے آئی، جو محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک سوال، ایک بحث اور ایک فکری سفر بن گئی۔ اس کی جدوجہد نے اس جستجو کو جنم دیا جو علم، شعور اور عمل کے سفر میں تبدیل ہوگئی۔
قومی تحریکوں میں کامیابی ہمیشہ مؤثر اور ترقی پسند حکمتِ عملی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ جب کوئی تنظیم یا تحریک طویل عرصے تک ایک ہی طریقۂ کار پر قائم رہتی ہے تو مایوسی، تھکن، خوف، بے یقینی اور بے اعتمادی اس کے کارکنوں کی ذہنی اور عملی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کردیتی ہیں۔ ایسے حالات میں تحریک اس مینڈک کی مانند ہوجاتی ہے جو کنویں میں رہ کر پوری دنیا کو اسی کنویں تک محدود سمجھنے لگتا ہے۔
کمانڈر شہناز اور تنظیمی اعلان اسی ترقی پسند حکمتِ عملی کی ایک مؤثر مثال ہیں۔ اس عمل نے بلوچ خواتین کی ذہنی تربیت، سیاسی شعور اور قومی تحریک میں ان کے فعال کردار کو نمایاں کیا۔ یہ صرف ایک تنظیمی اقدام نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جو قومی جدوجہد کو نئے زاویوں، نئی توانائی اور نئے امکانات سے روشناس کراتی ہے۔
دنیا کی بڑی تحریکوں میں خواتین کی شمولیت نے ہمیشہ جدوجہد کو نئی طاقت بخشی ہے۔ الجزائر کی آزادی کی تحریک سے لے کر ویتنام کی قومی مزاحمت تک، خواتین نے محض معاون کردار نہیں بلکہ قیادت اور عملی جدوجہد کا کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور قومی شرکت ایک مثبت اور ترقی پسند پیش رفت کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے، جو قومی تحریک کو مزید وسعت، گہرائی اور استحکام فراہم کرسکتی ہے۔
کوئی کردار جب اپنی حقیقی شکل میں ابھرتا ہے تو وہ محض ایک فرد یا نام نہیں رہتا بلکہ سماجی تشکیل کے ایک اہم جزو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایسے کردار اپنے عمل، فکر اور قربانی کے ذریعے تاریخ کے دھارے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے راستے متعین کرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک کردار شہید امیرالملک تھا، جس نے محض خود اپنے سینے پر گولی نہیں چلائی بلکہ ایک ایسی فکر کی بنیاد رکھی جس میں ذاتی زندگی کی اہمیت سے بڑھ کر اجتماعی مقصد اور تنظیمی ذمہ داری کو ترجیح دی گئی۔ اس کا کردار قربانی، استقامت اور نظریاتی وابستگی کی ایک مثال بن گیا۔
اسی تسلسل میں شاری بلوچ کا کردار بھی نمایاں ہے، جس نے ایک ایسے وقت میں راستے اور وقت کا تعین کیا جب خواتین کی تنظیمی شمولیت اور جنگی فکر کو محدود زاویوں سے دیکھا جاتا تھا۔ شاری بلوچ نے اپنے عمل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ قومی جدوجہد میں خواتین کا کردار محض معاون نہیں بلکہ فیصلہ کن بھی ہوسکتا ہے۔ یوں وہ خود ایک فکر، ایک مثال اور ایک تشکیل کا حصہ بن گئی۔
آج شہناز بھی اسی تاریخی اور فکری عمل کا تسلسل ہے۔ اس کا کردار جنگی رہنمائی اور تنظیمی ذمہ داری کی ایک نئی ساختی تشکیل کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ محض الفاظ یا نعروں تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں اپنی موجودگی اور اثر کے ذریعے خود کو منوا رہا ہے۔ ایسے کردار تحریکوں کی تاریخ میں صرف افراد نہیں ہوتے بلکہ وہ نئی راہوں، نئے امکانات اور نئی فکری جہتوں کی علامت بن جاتے ہیں۔
بالآخر تحریکیں صرف ہتھیار، نعروں یا جذبات سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ نئی فکر، نئی قیادت اور نئی حکمتِ عملی سے اپنی بقا اور پیش رفت کو یقینی بناتی ہیں۔ جو تحریکیں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی صفوں میں نئے کردار، نئی آوازیں اور نئے امکانات پیدا کرتی ہیں، وہی تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت حاصل کرتی ہیں۔ کمانڈر شہناز کا ظہور بھی اسی تاریخی عمل کا حصہ ہے، جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قومی جدوجہد جامد نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔ جب خواتین محض تماشائی نہیں بلکہ فیصلہ ساز، منتظم اور رہنما کے طور پر ابھرتی ہیں تو تحریک کی قوت، وسعت اور فکری گہرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی ترقی پسند حکمتِ عملی کی روح ہے پرانے سانچوں کو توڑ کر نئی راہیں متعین کرنا، جمود کو چیلنج کرنا اور جدوجہد کو آنے والے زمانوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔ تاریخ ہمیشہ انہی کرداروں کو یاد رکھتی ہے جو روایت کے اندھیروں میں نئے امکانات کی شمع روشن کرتے ہیں اور قوموں کو محض مزاحمت نہیں بلکہ مستقبل کا شعور بھی عطا کرتے ہیں
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































