بلوچستان – افریقہ کی روایتی غلامی سے جدید نوآبادیاتی جبر تک کا سفر
تحریر: زربار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
انسانی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی طاقتور نے کمزور کو اپنے زیرِنگیں لانے کی کوشش کی، تو اس کا پہلا وار معاشی یا جسمانی نہیں، بلکہ ثقافتی اور نفسیاتی ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کو مستقل طور پر غلام رکھنے کے لیے سب سے پہلے اس کی شناخت، اس کی مادری زبان، اس کا تاریخی تسلسل اور اس کا احساسِ تفاخر چھینا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی جڑوں سے کٹ جاتا ہے، تو وہ اپنی آزادی کی تڑپ بھی کھو بیٹھتا ہے۔
تاریخِ انسانی میں غلامی کا سب سے بھیانک، طویل اور روح فرسا دور براعظم افریقہ کے سیاہ فام لوگوں نے بھگتا۔ افریقی عوام کو صرف لوہے کی زنجیروں میں نہیں جکڑا گیا تھا، بلکہ ان کے ذہنوں اور نفسیات پر بھی سامراج کا مکمل پہرہ تھا۔ یورپی لٹیروں نے ان سے ان کے آبائی نام تک چھین لیے، ان کی زبانوں کو ممنوع قرار دیا اور ان کی اپنی ہی زمین پر ان کی حیثیت ایک اجنبی جیسی بنا دی۔ صبحِ صادق سے لے کر شامِ غریباں تک، بغیر کسی معاوضے، مناسب غذا اور طبی سہولیات کے، ان سے حیوانوں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ اس وحشیانہ سلوک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اتنے مفلوج اور کمزور ہو جائیں کہ ان کے شعور میں کبھی بغاوت یا حقِ خودارادیت کا خیال تک نہ آسکے۔
مغربی سامراج، جس میں برطانیہ، فرانس، پرتگال اور دیگر یورپی اقوام شامل تھیں، ان مظلوم غلاموں کی منڈیوں میں تجارت کر کے سونا، چاندی، بارود اور شراب حاصل کرتے تھے اور اپنے صنعتی انقلاب کی بنیادیں ان بےگناہ انسانوں کے خون پر استوار کر رہے تھے۔ اگر کوئی غلام اپنے حق کے لیے، یا محض انسان سمجھے جانے کے لیے آواز اٹھاتا، تو اسے کوڑوں سے لہولہان کر کے برسوں اندھی کوٹھڑیوں میں سڑا دیا جاتا یا عبرت کا نشان بنا دیا جاتا۔ ان مظلوموں کے پاس نہ تو اتنی مہلت تھی اور نہ ہی اتنے وسائل کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی داستانیں لکھ کر دنیا کے سامنے لا سکتے۔
انیسویں صدی میں جب اس وحشت کے خلاف انسانی حقوق کی تحریکیں اٹھیں، تو یورپی اقوام نے رحم دلی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے معاشی نقصانات اور نوآبادیاتی انتظام کے بدلتے ہوئے انداز کو دیکھ کر غلامی کا وہ روایتی دور ختم کیا۔ مگر افسوس، انسان کو غلام بنانے کی وہ سامراجی سوچ اور ذہنیت ختم نہ ہو سکی، بلکہ اس نے نئے جغرافیائی اور سیاسی روپ دھار لیے۔
آج جب میں اپنے وطن بلوچستان کی موجودہ حالتِ زار، یہاں کے چیلنجز اور عوامی سسکیاں دیکھتی ہوں، تو مجھے افریقہ کی اسی سیاہ تاریخ کا ایک بدترین اور جدید روپ نظر آتا ہے۔ کہنے کو تو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد، خودمختار اور جمہوری ریاست کے طور پر سرفہرست ہے، لیکن یہاں کی جمہوریت صرف دفتری فائلوں، آئینی کتابوں اور حکمرانوں کی لفاظی تک محدود ہے۔ سیاسی اصطلاح میں لفظ جمہوریت دو یونانی الفاظ کا مجموعہ ہے، ڈیمو یعنی عوام اور کریٹوس یعنی حق یا حکومت۔ اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ ریاست کے تمام فیصلوں کا منبع عوام کی مرضی ہوگا، انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہوگا اور وہ بلا خوف و خطر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں گے۔
اگر ہم پاکستان کے آئین کا مطالعہ کریں، تو اس کی دفعہ ایک سے لے کر بیس تک شہریوں کو برابر کے حقوق، جان و مال کا تحفظ، نقل و حرکت کی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی غیر مشروط ضمانت دیتی ہے۔ مگر یہاں ایک بڑا اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچستان کے عوام کو یہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق حاصل ہیں؟ کیا پاکستان کا آئین گوادر سے لے کر ژوب تک لاگو ہوتا ہے؟ ان سوالات کا سچ اور برہنہ جواب یہ ہے کہ بالکل نہیں۔ جب خود ریاست کے مقتدر حلقے، عدلیہ اور حکمران اپنے ہی بنائے ہوئے قانون اور متفقہ آئین کو پیروں تلے روند ڈالیں، تو سیاسی فلسفے کے مطابق وہاں انارکی یا طوائف الملوکی جنم لیتی ہے۔ یہ وہ بدترین نظام ہوتا ہے جہاں قانون کی نہیں، بلکہ بندوق اور طاقت کی حکمرانی ہوتی ہے، جہاں طاقتور کا ہر ظلم جائز اور کمزور کا جینا بھی جرم بن جاتا ہے۔ بلوچستان میں آج اسی ریاستی انارکی کا راج نافذ ہے۔
بلوچستان قدرت کا ایک انمول اور بے نظیر شاہکار ہے، جس کی سرزمین چار سو سے زائد انتہائی قیمتی اور نایاب معدنیات کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے مقام سوئی سے نکلنے والی قدرتی گیس نے دہائیوں تک پورے پاکستان کے کارخانوں کو چلایا، پنجاب اور سندھ کے گھروں کے چولہے جلائے، اور ملک کو معاشی ترقی دی، لیکن خود بلوچستان کے عوام آج بھی اکیسویں صدی میں کھانا پکانے کے لیے جنگلی لکڑیاں کاٹنے اور انہیں سروں پر اٹھانے کے محتاج ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ روشنی اور حرارت بانٹنے والے کا اپنا گھر اندھیرے اور سردی کی زد میں ہو۔ ہماری گیس، ہمارا سونا، ہمارا تانبا اور دنیا کی اہم ترین اسٹریٹیجک بندرگاہ گوادر، بین الاقوامی لٹیروں اور چینی و یورپی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کوڑیوں کے دام بیچی اور لوٹی جا رہی ہے۔ اس بے دریغ لوٹ مار کے بدلے میں بلوچ عوام کو صرف اور صرف کچرے کے ڈھیر، پسماندگی، پینے کے صاف پانی کی قلت، علاج کی عدم دستیابی، جہالت اور اپنوں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ یہ ایک کلاسک اور بدتہذیب نوآبادیاتی رویہ ہے، جہاں زمین کے اصل وارث بھوک اور افلاس سے بلکتے ہیں اور غاصب ان کے وسائل پر عیاشیاں کرتے ہیں۔
افریقہ کے غلاموں پر جب ظلم ہوتا تھا، تو تاریخ بتاتی ہے کہ کم از کم ان کی ایک مادی موجودگی ہوتی تھی۔ ان کے لواحقین کو معلوم ہوتا تھا کہ ان کا بیٹا یا شوہر کس گودام میں کام کر رہا ہے، کس قید خانے میں بند ہے یا کس میدان میں زنجیروں سے بندھا ہوا ہے۔ لیکن بلوچستان میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے، وہ افریقہ کی اس روایتی غلامی سے کہیں زیادہ ہولناک اور ماورائے قانون ہے۔
یہاں پچھلے پندرہ سے بیس سالوں سے زائد عرصے سے ایک ایسا سیاہ دور نافذ ہے جہاں رات کے اندھیرے میں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے، ماؤں کے سامنے سے ان کے لختِ جگر، بہنوں کے سامنے سے ان کے بھائی اور بزرگوں کو سیکیورٹی فورسز اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکار اٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیتے ہیں۔ یہ لاپتہ افراد کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور زندہ بھی ہیں یا نہیں، ان سوالات کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہے۔ سالانہ پچاس سے زائد مسخ شدہ لاشیں ویرانوں، پہاڑوں اور سڑکوں کے کنارے پھینک دی جاتی ہیں، جن پر تشدد کے لرزہ خیز نشانات ہوتے ہیں۔ جو کوئی بھی اپنے حقوق کی بات کرتا ہے، پینے کے پانی، بجلی کے کنکشن، یا تعلیم و صحت کی سہولت کا مطالبہ کرتا ہے، اسے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے فوراً ملک دشمن یا دہشت گرد کا لیبل لگا کر غائب کر دیا جاتا ہے۔
اگر سالہا سال کی ذہنی اور جسمانی اذیت کے بعد کوئی خوش قسمتی سے اس ٹارچر سیل سے رہا ہو کر واپس آ بھی جائے، تو وہ اس حد تک مفلوج اور نفسیاتی طور پر تباہ ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ جیتے جی ایک چلتی پھرتی لاش بن جاتا ہے۔ ستم ظریفی اور منافقت کی انتہا یہ ہے کہ یہ نام نہاد جمہوری ریاست اور اس کی عدالتیں عدالتی کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ ماننے سے بھی انکاری ہیں کہ یہ لوگ ان کی تحویل میں ہیں۔ ہماری اپنی دھرتی پر ہماری حیثیت کیڑے مکوڑوں جیسی بنا دی گئی ہے اور ہمارا کوئی بس نہیں چلتا۔
ریاستِ پاکستان اور اس کی پنجابی مقتدرہ کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بلوچستان افریقہ نہیں ہے، اور نہ ہی بلوچ کوئی روایتی، دبنے والے غلام ہیں۔ بلوچ ایک غیرت مند، جری، اور صدیاں پر محیط تاریخی شعور رکھنے والی قوم ہے، جس کی گھٹی میں آزادی کا جذبہ شامل ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے تاریخ کے بڑے سے بڑے غاصب اور جابر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔ جب انگریز سامراج نے برصغیر پاک و ہند پر قبضہ کیا اور ناقابلِِ شکست کہلایا، تو یہ بلوچ ہی تھے جنہوں نے ان کے خلاف پہاڑوں اور میدانوں میں دو سو سال تک مسلسل گوریلا اور میدانی جنگ لڑی۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کیں، خانِ قلات میرِ محراب خان کی صورت میں جانوں کے نذرانے تو دیے، مگر اپنی آزادی اور دھرتی کا سودا نہیں کیا۔
پاکستان نے سنہ انیس سو اڑتالیس میں دھوکے، سازش اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر بلوچستان پر زبردستی قبضہ کیا تھا، جیسا کہ بلوچ قوم پرستی کے فکری مینار، بابا خیر بخش مری نے تاریخی سچائی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک گدھے پر تو بھروسہ کیا جا سکتا ہے، لیکن پنجابی مقتدرہ کی سامراجی سوچ پر کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ جس دن بلوچستان کی مرضی کے خلاف اس کا الحاق کیا گیا، اسی دن سے بلوچوں کے دلوں میں انقلاب اور مزاحمت کی بنیاد پڑ گئی۔ بلوچ عوام نے اس جبری تسلط کے خلاف صرف سیاسی و سماجی تحریکیں ہی نہیں چلائیں، بلکہ جب جب ان کے راستے مسدود کیے گئے، انہوں نے اپنے دفاع میں ہتھیار بھی اٹھائے۔ نواب نوزوز خان سے لے کر نواب اکبر بگٹی کی شہادت تک، یہ قومی بقا کی جنگ نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے اور یہ جنگ تب تک جاری رہے گی جب تک بلوچ قوم کو اس کی سرزمین پر اس کا حقیقی حقِ ملکیت اور مکمل آزادی نہیں مل جاتی۔
مجھے حیرانی اور ہنسی آتی ہے اس ریاست کی تاریخ اور اس کے بیانیے پر، جو حقیقت میں پندرہ اگست کو آزاد ہوئی مگر اپنا جشنِ آزادی ایک دن پہلے چودہ اگست کو مناتی ہے۔ جس ملک کو اسلام کے نام پر، اقلیتوں کے حقوق اور ایک نظریاتی جنت کے نام پر حاصل کیا گیا، آج وہی ریاست مذہب کا چورن بیچ کر، مسجدوں، مدرسوں اور سٹریٹیجک اثاثوں کے نام پر دنیا بھر کے ممالک اور آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لیے بھیک مانگ رہی ہے۔ ان کی اپنی کوئی حقیقی، نامیاتی اور جڑدار تاریخ نہیں ہے۔ اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا دیکھیے کہ جس محمد علی جناح نے ان کے لیے ایک الگ ملک کی جدوجہد کی، اسی ریاست کی فوج اور سیاستدانوں نے ان کے آخری ایام میں انہیں کراچی کی سڑک پر ایک خراب ایمبولینس میں تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا، جہاں مکھیاں اڑ رہی تھیں اور ان کا صحیح علاج تک نہ ہونے دیا گیا۔ جب یہ مقتدرہ اپنے بانی اور محسن کی وفادار نہ ہو سکی، تو وہ بلوچوں کی خیر خواہ کیسے ہو سکتی ہے، یہ ہمدردی کا دعویٰ محض ایک فریب ہے۔
ہم پر دہائیوں سے جھوٹے الزامات لگائے گئے، ہمیں غدار کہا گیا، ہمیں ترقی دشمن اور دہشت گرد گردانا گیا، اور ہمارے اپنوں کے جنازوں پر اٹھنے والے آنسوؤں کا مذاق اڑا کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ مظلوم کی خاموشی جب ٹوٹتی ہے، تو وہ طوفان بن جاتی ہے اور اب مصلحت اور خاموشی کا وقت ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ ریاست نے ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے ہیں اور جو مسائل پیدا کیے ہیں، اب ان کے خلاف ہر سطح پر ایک فیصلہ کن اور ہمہ گیر جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں ہے، یہ قلم کی بھی ہے جو سچ لکھے گا، یہ زبان کی بھی ہے جو جبر کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گی، اور یہ میدان کی بھی ہے جہاں پرامن سیاسی دھرنے اور مزاحمت ریاست کو بےنقاب کر رہے ہیں۔
ہم اپنے ایک ایک لاپتہ بھائی کا حساب بھی لیں گے، اپنی مسخ شدہ لاشوں کے خون کا قصاص بھی مانگیں گے اور اپنی دھرتی کے ایک ایک کوئلے، گیس کے مالیکیول اور سونے کے ذرے کا حساب بھی لیں گے۔ یہ دھرتی ہماری ہے، اس کے پہاڑ ہمارے ہیں، اس کا سمندر ہمارا ہے، اور اس کے مستقبل کے فیصلے بھی صرف اور صرف ہم خود کریں گے۔ ریاست یہ بھول جائے کہ وہ ڈرا دھمکا کر ہمیں مطیع کر لے گی۔ بلوچستان افریقہ کی کوئی بےزبان نوآبادی نہیں، یہ جنگجوؤں، غازیوں، اور غیرت مندوں کی سرزمین ہے، جو لڑنا بھی جانتے ہیں اور اپنا حق چھیننا بھی!
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































